بچوں کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کا بل

Image caption مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ ’جمہوری حکومتیں جو اپنے آپ کو عوام کی نمائندہ حکومتیں کہتی ہیں اُن کو اللہ نے یہ توفیق نہیں دی ہے کہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں کوئی قانون مرتب کر سکیں۔‘

پاکستان میں ریاستی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل نے منگل کو دو روزہ اجلاس کے اختتام پر بچوں پر تشدد کی روک تھام کے معاملے پر ایک بل تجویز کیا ہے جس کا مسودہ تیار کر کے محکمۂ قانون کو ارسال کیا جائے گا۔

اس بل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ادارے کی تشکیل کے بعد سے پہلا بل ہوگا۔یاد رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا ادارہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس ادارے کو قانون سازی کا اختیار نہیں ہے اور اس کی صرف مشاورتی حیثیت ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کونسل کے دیگر ممبران کے ہمراہ منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دو روزہ اجلاس کے بعد ممبرانِ کونسل نے 33 مختلف دفعات پر مشتمل بچوں کے حقوق کے بل کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں رحمِ مادر سے لے کر بلوغت اور اُس کے بعد تک کے حقوق اور اُن کے تحفظ کی بات کی گئی ہے۔

اِس قانون کے بارے میں مزید تفصیلات خصوصاً شادی کے لیے عمر کی حد اور سکولوں اور مدارس میں بچوں پر تشدد کی روک تھام کے اقدامات کی تفصیلات نہیں بتائیں گئیں البتہ مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ مسودہ محکمۂ قانون کو بھیجتے وقت میڈیا کو مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption مشتمل بچوں کے حقوق کے بل کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں رحمِ مادر سے لے کر بلوغت اور اُس کے بعد تک کے حقوق اور اُن کے تحفظ کی بات کی گئی ہے

اسلامی نظریاتی کونسل کی حال ہی میں رکنیت اختیار کرنے والی خاتون اور سابق رکنِ قومی اسمبلی سمیعہ راحیل قاضی سے جب پوچھا گیا کہ یہ تاثر ہے کہ کونسل عورتوں کے خلاف اُن کو دبائے رکھنے کے لیے قوانین تجویز کرتی ہے تو وہ بولیں ’میرے پیشِ نظر یہی ہے کہ کونسل کا جو تصور ہے کہ عورت مخالف قوانین بنائے جاتے ہیں، عورتوں کو کم تر سمجھا جاتا ہے تو اُس تاثر کو ختم کرنے میں اپنا کردار بھی ادا کروں گی۔‘

اِسی اجلاس میں ادارے کے تحت مختلف تحقیقاتی ڈیسکس بنانے کی تجویز دی ہے جو کونسل کے ممبران کو عالمی سطح پر حالات اور تبدیلیوں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کارروائی، سلامتی کونسل کے فیصلے انسانی حقوق سے متعلق ادارے، یا عالمی مالیاتی اداروں اور بچوں کے حقوق کے بارے میں آگاہ کرے تاکہ زمانہ جدید کے مطابق شریعت کی رو سے فیصلے کیے جا سکیں۔

اسی بارے میں