ملاکنڈ میں کسٹم ایکٹ کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال

پاکستان کے ملاکنڈ ڈویژن کے بیشتر اضلاع میں حکومت کے نافذ کردہ کسٹم ایکٹ کے خلاف تاجر تنظیموں، وکلا اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ تیز ہوتا جا رہا ہے۔

ملاکنڈ ڈویژن کے اضلاع سوات، شانگلہ ، بونیر، چترال اور کوہستان میں منگل کو تاجر تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی ایپل پر کسٹم ایکٹ کے نفاذ کے خلاف شٹرڈوان ہڑتال اور وکلا کی جانب سے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا۔

ملاکنڈ ڈویژن کے سب سے بڑے شہر سوات کے صدر مقام مینگورہ میں ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا جس میں تاجر تنظیموں اور ملک کے مختلف سیاسی جماعتوں کے صوبائی و ضلعی عہدیداوں، آراکین صوبائی اسمبلی، ناظمین اور کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن گذشتہ سات سالوں سے شدت پسندی اور قدرتی آفات سے بری طرح متاثر رہا ہے لہذا اس علاقے کے عوام کسٹم اور دیگر ٹیکسوں کے نفاذ کو کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔

مقررین نے اس بات کو بار بار دہرایا کہ سوات کا پاکستان میں ادغام کے وقت یہ معاہدہ طے پایا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے تمام ضلعے ہمیشہ ہمیشہ کےلیے ٹیکسوں کے نفاذ سے متثنی ہوں گے۔

ادھر مینگورہ شہر میں کسٹم ایکٹ کے خلاف تاجر تنظیموں کی جانب سے مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی اور شہر کے تمام بڑے بڑے تجارتی مراکز مکمل طورپر بند رہے جبکہ شہر کی سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت بھی معمول سے کم رہی۔

وکلا تنظیموں نے کسٹم ایکٹ کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور اس دوران ضلع کی تمام عدالتیں بند رہی۔ ہڑتال کے باعث شہر کے تمام نجی تعلیمی ادارے بھی بند رہے تاہم سرکاری سکول معمول کے مطابق کھلے رہے۔

خیال رہے کہ چند ہفتے قبل گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا تاہم صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے اس ایکٹ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اس کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ اس احتجاج میں حکمران جماعت تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعت اسلامی بھی شامل ہے۔

ادھر وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی طرف سے وفاقی حکومت کو حال ہی میں ایک مراسلہ لکھا گیا ہے جس میں کسٹم ایکٹ واپس لینے کی سفارش کی گئی ہے۔

اسی بارے میں