’میڈیا اجلاس کی کوریج موبائل فون سے نہیں کر سکتا ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپیکر نے گذشتہ روز موبائل فون سے اسمبلی کے اجلاس کی کوریج کا نوٹس لیا تھا

قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے موبائل فون کے ذریعے ٹی وی پر اجلاس کی کارروائی نشر کرنے کے معاملے پر الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کو پارلیمانی قواعد کا پابند بنایا جائے۔

سپیکر کی جانب سے بدھ کو پیمرا کے چیئرمین کے نام لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی قواعد و ضوابط کے تحت رپورٹر سکائپ یا موبائل کیمرے کے ذریعے کوریج نہیں کر سکتے ہیں اور رپورٹر کا یہ اقدام قومی اسمبلی کے ’قوانین اور کارروائی کے ضابطوں‘ کے خلاف ہے۔

سپیکر نے گذشتہ روز موبائل فون سے اسمبلی کے اجلاس کی کوریج کا نوٹس لیا تھا اور کہا تھا کہ وہ پیمرا کو اس معاملے سے آگاہ کریں گے۔

دوسری جانب پیمرا کے چیئرمین ابصار عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس سلسلے میں ابھی تک کوئی خط موصول نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ’خط ملنے کے بعد قانون اور ضابطہ اخلاق کی روشنی میں اس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔‘

پاناما لیکس سامنے آنے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس معاملے پر قائد حزبِ اختلاف خورشید شاہ اور تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے تقریر کی تھی، سرکاری میڈیا پر نشر نہیں کیا گیا، البتہ اجلاس کی کارروائی کو رپورٹ کرنے والے نامہ نگاروں نے موبائل فون کے ذریعے اپنے ٹی وی چینلوں پر براہ راست کارروائی نشر کی تھیں۔

یاد رہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر کیمرا لے جانے کی پابندی ہے اور پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر سے براہراست کوریج بھی نہیں کی جا سکتی اور میڈیا بھی ان قوانین سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

پارلیمانی امور کی سوجھ بوجھ رکھنے والے سینیئر صحافی ایم بی سومرو کا کہنا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ میڈیا کو اُس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے روکے لیکن رپورٹروں کو موبائل فون سے براہِ راست کوریج کا اختیار نہیں ہے۔

’قوانین کے تحت سپیکر کا اختیار ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آنے کا طریقہ کار تبدیل بدل سکتے ہیں۔ وہ کسی پر بھی پابندی لگا سکتے ہیں۔‘

سینیئر صحافی اظہر عباس نے اس معاملے پر ٹویٹ کی کہ ’جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ منتخب نمائندے ہمارے مسائل پر بحث کر کے انھیں حل کریں۔ پارلیمانی کارروائی کے بارے میں آگاہ رکھنا ہمارا حق ہے، جسے سیاسی وجوہات کی بنا پر چھینا نہیں جا سکتا۔‘

ایک نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر بشیر چوہدری کا کہنا ہے کہ ’ہم اجلاس کی کارروائی براہ راست دکھا کر قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں لیکن میڈیا چینل ریٹنگ کی دوڑ کی وجہ سے رپورٹروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ بھی لائیو کوریج کریں۔ حالانکہ یہ رولز آف برنس کے خلاف ہے۔‘

اسمبلی کے قوانین کے تحت کسی بھی وزیر یا رکن اسمبلی کو اپنی تقریر سرکاری میڈیا پر براہراست نشر کرنے کے لیے بھی سپیکر سے پیشگی اجازت درکار ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

سینیئر صحافی ایم بی سومرو کا کہنا ہے کہ ’قومی اسمبلی کو بھی چاہیے کہ وہ سینیٹ کی طرح اجلاس کی پوری کارروائی اپنی ویب سائٹ پر براہ راست نشر کرے۔ اجلاس کی کارروائی نشر کرنے سے شفافیت آئے گی اور عوام اپنے منتخب نمائندوں کا احتساب کر سکیں گے کیونکہ حکومتی اراکین کی تقاریر تو نشر ہوتی ہیں لیکن اپوزیشن کی نہیں ہوتیں۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے آزادی اظہار رائے کے حق سے کسی کو انکار نہیں ہے لیکن قوانین کی پاسداری بھی بہت ضروری ہے اور میڈیا کو ہر معاملے پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ سپیکر ایوان کا نگران ہوتا ہے اس لیے انھیں پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر تمام اراکین کو یکساں مواقع دینے چاہییں۔

اسی بارے میں