پمز میں ریپ کی کوشش، ملزم کا تین روزہ ریمانڈ

Image caption پولیس کے مطابق ہسپتال کی انتظامیہ نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا تاہم پولیس کو اس بارے میں اطلاع نہیں دی گئی

اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مرد نرس کو ایک 20 سالہ معذور مریضہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کی کوشش کرنے پر مقامی عدالت نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

پمز کے سرجیکل آئی سی یو میں مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے کرشن کمار کو معذور مریضہ کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کے الزام میں بدھ کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔

٭ ذہنی مریضہ کے ساتھ ریپ کی کوشش کا ملزم گرفتار

٭ پمز ہسپتال میں ذہنی مریضہ کو ریپ کرنے کی کوشش

پیشی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کے لیے سات روز کا مطالبہ کیا، تاہم عدالت نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی۔

اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے ایس پی کیپٹن ریٹائرڈ محمد الیاس نے بتایا کہ ملزم کے میڈیکل ٹیسٹ کے لیے اسے آج اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال لے جایا جائے گا۔

ایس پی محمد الیاس کے بقول ملزم اس جرم کا عادی ہے۔ اس سے پہلے بھی تھانہ مارگلہ میں اس کے خلاف ریپ کا مقدمہ چل چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے جی ایٹ سیکٹر میں نرسنگ کا ایک کاروبار ہوم سروس پرووائیڈر کے نام سے کھول رکھا تھا جہاں اس نے ایک خاتون نرس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ جرم ثابت ہونے پر ملزم نے کچھ عرصے کے لیے جیل کاٹی مگر پھر عدالت کے باہر معاملہ طے ہونے پر اسے رہا کر دیا گیا ۔

خیال رہے یہ واقعہ پانچ دن قبل سنیچر کی رات دو بجے اس وقت پیش آیا جب ملزم نے بولنے اور چلنے سے قاصر 20 سالہ مریضہ کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت وہ وارڈ میں اکیلی تھیں۔

معذور مریضہ نے اشاروں میں والدہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اس پر کیا بیتی جس پر ان کی والدہ نے پمز کی انتظامیہ کو شکایت کی۔ مریضہ کا تعلق سوات سے ہے اور وہ گذشتہ ایک ماہ سے پمز کے سرجیکل آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔

تاہم دو دن قبل یہ خبر میڈیا پر آنے کے بعد ملزم اسلام آباد سے فرار ہو گیا۔ منگل کو اسلام آباد پولیس نے اس کو کے پی کے ضلع ہری پور کے گاؤں گھماواں سے گرفتار کر لیا۔

اسی بارے میں