طورخم پر سخت چیکنگ، مسافروں کو مشکلات

پاک افغان سرحد پر حکام نے طورخم پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے جس سے سرحد پر لوگوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

سرحد پار آنے جانے والوں کی تلاشی اور ان کی دستاویزات کی جانچ پڑتال میں سختی کے علاوہ سرحد کے قریب خیبر ایجنسی میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کے 80 مکانات بھی مسمار کیے گئے ہیں۔

طورخم کے علاقے میں بدھ کو چیکنگ کے دوران شدید گرمی سے متعدد افراد کی حالت غیر ہو گئی تھی جبکہ گزشتہ روز سرحد پر ایک خاتون اور بچی ہلاک ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق خاتون اور بچی بیمار تھے اور علاج کے لیے پشاور آ رہے تھے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق سرحد عبور کرنے کے لیے سفری دستاویزات کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان آنے والے زیادہ تر افغان علاج کے لیے پشاور آتے ہیں اور انھیں ڈاکٹر کی ہدایات پر یا راہداری کارڈ ہونے پر سرحد عبور کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 30 اپریل کے بعد سے پاسپورٹ اور ویزہ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔

پشاور میں افغانستان جانے والی گاڑیوں کے اڈے پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ سرحد پر اب بہت سختی کی جا رہی ہے جبکہ لوگوں کے لیے ایک تنگ راستہ بنایا گیا ہے جہاں سے دونوں جانب کے لوگ گزرتے ہیں۔

مسافروں کا کہنا تھا کہ پاکستان آنے والے بیشتر لوگ یا تو مریض ہوتے ہیں اور یا وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے آتے ہیں اس کے لیے انھیں سرحد پر بہت زیادہ تنگ کیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اس کے بعد طورخم سے پشاور تک چار سے پانچ مقامات پر علیحدہ علیحدہ اداروں کے اہلکار ان کی چیکنگ کرتے ہیں۔

مسافر ویگن میں بیٹھے ایک مسافر نے بتایا کہ انھیں منگل کو واپس کر دیا گیا تھا لیکن کاغذات ہونے کے باعث انھیں آج آنے دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا ’روزانہ سختی ہوتی ہے دوسرا تیسرا روز ہے مصیبت بنائی ہوئی ہے ، جگہ جگہ سختی اگر کارڈ دکھاتے ہیں تو بھی نہیں چھوڑتے دس جگہ پر لوگ کھڑے ہیں کاغد دکھاؤ پاسپورٹ دکھاؤ بس یہی کہتے ہیں۔ اتنا تنگ راستہ بنایا ہوا ہے جہاں سے مرد اور عورتیں گزرتے ہیں اور یہ بہت بے عزتی کی بات ہے۔‘

خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی ابراہیم شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحد پر کڑی نگرانی کا فیصلہ چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد کیا گیا تھا اور اس پر کئی مرتبہ افغان حکام سے بھی بات چیت ہو چکی ہے ۔

دوسری جانب پولیٹکل انتطامیہ کے افسران نے بتایا کہ ظور خم اور اس کے قریبی علاقوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے 80 مکانات مسمار کر دیے گئے ہیں جبکہ دیگر کے خلاف کارروائی دو روز بعد شروع کی جائے گی۔

اسی بارے میں