’پاکستان افغان طالبان کو دوبارہ مذاکرات پر آمادہ کر سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی افغان طالبان پر اثر و رسوخ رکھتا ہے اور پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکل سکے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے افغان سفیر نے کہا کہ وہ اب بھی پر امید ہیں کہ پاکستان افغان طالبان کو دوبارہ مذاکرات پر آمادہ کر سکتا ہے۔

نئے افغان سفیر کو جوابات کی تلاش

اُنھوں نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے موسم بہار کے ساتھ تازہ آپریشن کے اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں لے رہے۔

یاد رہے کہ افغان طالبان نے رواں ہفتے بہار کے آمد پر اپنے سابق امیر ملا عمر کے نام منسوب ’آپریشن عمری‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے جواب میں افغان حکومت نے بھی طالبان کی پرتشدد کارروائیوں کے خلاف ’شفق‘ کے نام سے نئی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مصالحت کی کوششوں کے لیے چار ممالک پر مشتمل گروپ کا پانچواں اجلاس رواں ماہ اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ ان چار ممالک میں امریکہ چین، پاکستان اور افغانستان شامل ہیں۔

افغان سفیر نے بتایا کہ چار فریقی گروپ کے اگلے اجلاس کے لیے ابھی تاریخ کا تعین ہونا باقی ہے۔

افغان سفیر کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ طالبان امن مذاکرت میں دلچپسی نہیں لے رہے ہیں کیونکہ اگر وہ بات چیت میں سنجیدہ ہوتے تو افغانستان میں اُن کے حملوں میں کمی آتی۔

افغان حکومت اور طالبان کا ایک دوسرے کے خلاف آپریشن کے اعلان پر افغان سفیر نے کہا کہ ’عوام کی دیرینہ خواہش پر حکومت نے افغان طالبان سے مذاکرات کی ہامی بھری تھی لیکن طالبان نے ہمیشہ امن کی بجائے جنگ کو ترجیحی دی ہے۔‘

یاد رہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے رواں سال جنوری میں امریکہ چین، پاکستان اور افغانستان کے درمیان چار ملکوں اجلاسوں کا آغاز ہوا تھا، جس کے اب تک کابل اور اسلام آباد میں چار ادوار ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں