گلگت بلتستان میں خوراک کا بحران

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شاہراہ قراقرم پر 11 روز سے کام جاری ہے اور اب بھی مختلف مقامات پر لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے یہ شاہراہ تین جگہوں سے بند ہے

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں اور لینڈ سلائڈنگ سے خوراک کا بحران پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق آٹا اور پیٹرول مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ خوراک کی قلت ضرور ہے لیکن اتنی زیادہ نہیں ہے۔

شاہراہ قراقرم پر 11 روز سے کام جاری ہے اور اب بھی مختلف مقامات پر لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے یہ شاہراہ تین جگہوں سے بند ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ ایک جگہ سے سڑک مکل طور پر بہہ گئی ہے جہاں اب متبادل راستہ بنایا جا رہا ہے اور اس پر فوج کے ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے اہلکار کام کر رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے لیے شاہراہ قراقرم اس لیے بھی اہم ہے کہ خوراک اور دیگر بنیادی اشیا اسی شاہراہ سے وہاں جاتی ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے سے خوراک پیٹرول اور دیگر روز مرہ استمال کی اشیا کی انتہائی قلت پائی جاتی ہے۔

گلگت شہر میں حکومت کی جانب سے ہر گھر کو پانچ سے دس کلو تک گندم فراہم کی جا رہی ہے لیکن یہ گندم آٹھ سے دس افراد کے خاندان کے لیے انتہائی کم ہے۔

مقامی تاجر رہنما مقصود الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت علاقے میں گندم، پٹرول، پانی اور بجلی کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت شہر میں تندور اور ہوٹل بند ہو رہے ہیں جس سے باہر سے آئے ہوئے افراد کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

مقامی صحافی امتیاز علی تاج نے بتایا کہ اس وقت پورے ریجن میں خوراک اور پیٹرولیم مصنوعات کا بحران ہے۔

انھوں نے کہا کہ صرف ایک لیٹر پیٹرول خریدنے کے لیے تین دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ مارکیٹ میں یہ اشیا مہنگے داموں پر فروخت ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال تو گلگت کی ہے دیگر اضلاع میں تو اس سے بھی برا حال ہے۔

اس بارے میں گلگت بلتستان کے وزیر خوراک حاجی جانباز کا کہنا تھا کہ یہاں خوراک کی قلت ضرور ہے لیکن اتنی بھی نہیں جتنی ذرائع ابلاغ میں پیش کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب سے چند روز پہلے سی ون تھرٹی طیارے سے امدادی سامان یہاں پہنچا ہے۔

حاجی جانباز خان نے بتایا کہ شاہراہ قراقرم بند ہونے کی وجہ سے یہ مشکل پیدا ہوئی ہے۔

ادھر خیبر پحتونخوا کے ضلع کوہستان میں لینڈ سلائیڈنگ اور بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جہاں اب بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

اسی بارے میں