صوبائی وزیر کے خلاف بینک کا اشتہار

تصویر کے کاپی رائٹ Mashriqakhbar
Image caption بینک آف خیبر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تحت کام کرتا ہے اور حکومت کے پاس ملکیت حصص 70 فیصد کی اکثریت ہوتی ہے

پاکستان کی مذہبی سیاسی پارٹی، جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ کے خلاف صوبے میں قائم بینک آف خیبر کی انتظامیہ نے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں ان پر بینک کے معاملات میں مداخلت کے الزامات عائد کیےگئے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے مطابق وہ اسلامی بینکاری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

بینک آف خیبر کی جانب سے آج اخبارات میں ایسا اشتہار شائع کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر خزانہ کی جانب سے بینک کے خلاف جھوٹے اور گمراہ کن الزامات لگائے گئے ہیں۔

ان اشتہارات میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر مظفر سید پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ موصوف سیاسی طور پر نامزد افراد اور رشتہ داروں کی تقرری اور بینک کے ملازمین کے تبادلے اور تقرری جیسے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا چاہتے تھے جس پر بینک انتظامیہ نے انکار کیا جس سے وزیر موصوف پریشان تھے۔

اس اشتہار میں کہا گیا ہے کہ وزیر مظفر سید کو ڈیڑھ سال پہلے وزارت خزانہ کا قلمدان دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سراج الحق خیبر پختونخوا میں وزیر خزانہ تھے۔

بینک کی جانب سے شائع اشتہار میں کہا گیا ہے کہ وزیر موصوف کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ایک مالیاتی ادارہ کس طرح کام کرتا ہے اور کارپوریٹ گورننس ڈھانچہ کیا ہوتا ہے۔ بینک آف خیبر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تحت کام کرتا ہے اور حکومت کے پاس ملکیت حصص 70 فیصد کی اکثریت ہوتی ہے۔

اس اشتہار میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ماضی کی حکومتیں سیاسی مقاصد کے لیے من پسند افراد کو بھرتی کرتی تھیں اور اپنے من پسند افراد کو بینک سے قرضے دلواتی تھیں۔

اس اشتہار میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بینک میں بہتری لائی ہے اور ایک قائم مقام مینیجنگ ڈائریکٹر کی بجائے ایک مستقل مینیجنگ ڈائریکٹر تعینات کیا ہے اور اس کے علاوہ ایک آزاد اور اہل بورڈ قائم کر دیا ہے جو بینک کے انتظامات دیکھتے ہیں۔

اس اشتہار کے بعد جماعت اسلامی کے رہنما پہلے تو خاموش رہے لیکن بعد میں جماعت کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے ایک اخباری کانفرنس میں ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ان کی جماعت اسلامی بینکاری کے لیے کوشاں ہے اور ان کی جدو جہد جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت سودی بینکاری کے خلاف ہے اور وزیر خزانہ مظفر سید اس کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔

اس بارے میں یہاں ایسی اطلاعات ہیں کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے اخبار میں اشتہار کے شائع کرنے کا نوٹس لے لیا ہے دوسری جانب یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ جماعت اسلامی صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ قائم حکومتی اتحاد پر بھی غور کر رہی ہے۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے علاوہ قومی وطن پارٹی کے اتحاد سے حکومت قائم ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کچھ روز پہلے کرپشن کے خلاف مہم چلانے کا اعلان بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں