بلوچ قوم پرست رہنما عبد النبی بنگلزئی ’زندہ‘ ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ vimeo.com
Image caption گذشتہ برس اسی طرح اللہ نذر بلوچ نے بھی اپنی موت کی تردید ایک ویڈیو کے ذریعے کی تھی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنما عبد النبی بنگلزئی کی ایک ویڈیو سامنے آگئی ہے جس میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔سرکاری حکام نے9 اپریل کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں انھیں کالعدم عسکریت پسند تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی کا اہم کمانڈر قرار دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ضلع قلات کے علاقے جوہان میں سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں عبد النبی بنگلزئی سمیت 34 عسکریت پسند مارے گئے۔اس دعوے کے برعکس بی بی سی کے اسلام آباد دفتر کو بھیجی جانے والی ایک ویڈیو میں عبد النبی بنگلزئی نظر آرہے ہیں جس میں وہ بلوچی زبان میں یہ کہہ رہے کہ وہ زندہ ہیں۔ویڈیو میں ان کے بقول یہ کہہ رہے ہیں کہ ’ آپ مجھے سن رہے ہیں۔ہم سب سلامت ہیں۔ میں بات کر رہا ہوں تا کہ سرکار کی غلط بیانی سامنے آجائے۔‘ویڈیو میں ان کے بقول ’چار روزہ آپریشن میں سرکار نے واقعی لوگوں کو بلا تفریق بڑی تعداد میں ماراہے لیکن مارے جانے والے خانہ بدوش تھے جوگرم علاقوں سے سرد علاقوں اور نرمک کی جانب نقل مکانی کر رہے تھے۔ سرکار اپنی ناروا کارروائی کو چھپانے کے لیے یہ کہہ رہی ہے کے اس نے سرمچاروں کومارا ہے۔‘جب بی بی سی نے اس ویڈیو پربلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کا رد عمل معلوم کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ جس کیمپ کے خلاف کارروائی کی گئی اس میں عبد النبی بنگلزئی کی موجودگی کی اطلاع تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا یقین ہے عبد النبی مارا گیا ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو بھی دہشت گرد ہے اگر وہ قومی دھارے میں نہیں آتا تو وہ اس مرتبہ نہیں تو اگلی مرتبہ مارا جائے گا۔

اسی بارے میں