خیبر ایجنسی: امن لشکر کے سربراہ پر حملہ، دو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خیبر ایجنسی میں گزشتہ کئی سالوں سے طالبان مخالف امن لشکروں کے سربراہان اور رضاکار شدت پسندوں کی طرف سے حملوں کی زد میں رہے ہیں

وفاق کے زیر انتظام پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ امن لشکر کے ایک سربراہ پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں حملہ آور سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم حملے میں لشکر کے سربراہ محفوظ رہے۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ اتوار کی صبح لنڈی کوتل تحصیل کے دور افتادہ علاقے بازار زخہ خیل میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک مبینہ خودکش حملہ آوار بازار زخہ خیل امن کمیٹی کے سربراہ بلال کے حجرے میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے کہ اس دوران اس نے خود کو دھماکہ سے اڑا دیا جس سے حملہ آوار اور ایک رضاکار ہلاک ہوگئے۔ تاہم حملے میں امن لشکر کے سربراہ محفوظ رہے ہیں۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ امن لشکر کے رضاکاروں نے ایک مشکوک شخص کو حجرے میں داخل ہوتے وقت ان پر فائرنگ کردی جس سے ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوار نے خِودکش جیٹ پہن رکھی تھی اور ان کا ہدف امن کمیٹی کے سربراہ تھے تاہم حجرے کے صحن میں داخل ہونے سے پہلے ہی ان پر فائرنگ کردی گئی۔

یاد رہے کہ لنڈی کوتل تحصیل کا علاقہ بازار زخہ خیل وادی تیراہ کا ایک دور افتادہ مقام سمجھاجاتا ہے جو لنڈی کوتل بازار سے تقربناً ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ماضی میں اس علاقے میں کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے جنگجوؤں کا اثر رسوخ رہا ہے۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں گذشتہ کئی سالوں سے طالبان مخالف امن لشکروں کے سربراہان اور رضاکار شدت پسندوں کی رف سے حملوں کی زد میں رہے ہیں۔ تاہم خیبرایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی آپریشن خیبر ون اور خیبر ٹو کے نتیجے میں علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال کافی حد تک بہتر ہوئی ہے۔ حالیہ حملہ بھی کافی عرصہ کے بعد پیش آیا ہے۔ ایجنسی بھر میں اب شدت پسندوں کی اثر رسوخ میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ تاہم ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بدستور جاری ہے۔

اسی بارے میں