پاناما لیکس: رضا ربانی کا کمیشن کی سربراہی سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر میں غیر موجودگی میں چیئرمین سینیٹ ان کا عہدہ سھنبالتے ہیں

پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے پاناما لیکس کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی سے انکار کر دیا ہے جب کہ حکومت نے اسے درست فیصلہ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے رضا ربانی کا نام تجویز کیا تھا۔

وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ

اس سے قبل پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم سے مستعفی جبکہ تحریک انصاف نے موجودہ چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا کی خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا تھا کہ دنیا بھر میں چوٹی کے امیر اور طاقتور لوگ اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں تاکہ انھیں ٹیکس سے چھوٹ مل سکے۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کمیشن کی سربراہی کے لیے سینیٹ کے چیئرمین کا نام تجویز کیا جانا مناسب نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اچھا ہے کہ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے خود ہی کمیشن کی سربراہی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ میں رضا ربانی کا یہ بیان سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے یہ کہہ کر کمیشن کی سربراہی کرنے سے انکار کیا تھا کہ وہ سینیٹ کے حقوق کے محافظ ہیں اور صدر کی غیر موجودگی میں ان کا عہدہ بھی سھنبالتے ہیں ایسے میں کمیشن کی سربراہی کرنے سے مفادات میں ٹکراؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں عدالتی کمیشن کے بجائے پارلیمانی کمیشن زیادہ موثر ثابت ہوگا۔ جس میں پارلیمینٹ کی تمام جماعتوں کی نمائیندگی ہو۔

پی پی پی کا مطالبہ ہے کہ یہ کمیشن زیادہ بااختیار ہو اور اسے ماہرین کی مدد بھی حاصل ہو۔

یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پیر کو سپریم کورٹ کے سابق سینیئر جج جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی کو اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا جائے گا تاہم پیپلز پارٹی نے ان کا نام بھی یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ ان کی اہلیہ کا مسلم لیگ نے قریبی تعلق رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف رائے وینڈ میں وزیراعظم کی نجی رہائش گاہ میں دھرنا دینے کے لیے حزب مخالف کی دیگر جماعتوں سے مشاورت کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی پیر کو عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی سے ملاقات کریں گے۔

اب تک جن سیاسی جماعتوں سے پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے ملاقتیں کی ہیں ان میں سے کسی بھی جماعت کی جانب اسے مکمل حمایت نہیں مل سکی۔

ادھر امریکہ میں پاکستان کے سفارتخانے نے عالمی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بنک کے ساتھ حالیہ اجلاس کے موقع پر پاکستان اور پاناما کے درمیان وزارتی سطح کی ملاقاتوں کی خبروں کو مسترد کیا ہے۔

اسی بارے میں