چھوٹو گینگ سے یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے مذاکرات تاحال بے نتیجہ

Image caption سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز کو بھی علاقے میں اتارا گیا ہے اور گینگ کے خلاف حتمی آپریشن کسی وقت بھی شروع ہوسکتا ہے

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں میں جرائم پیشہ گروہ چھوٹو گینگ کے خلاف فوج، پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن جاری ہے جبکہ ملتان کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم نے کچے کے علاقے کا دورہ کیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کے دوران یرغمال بنائے گئے 24 پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے ڈاکوؤں سے گزشتہ کئی دن سے مذاکرات کیے جارہے ہیں اور مذاکرات میں ناکامی کی صورت میں گینگ کے خلاف فیصلہ کن کارروائی شروع کیے جانے کا امکان ہے۔

٭راجن پور آپریشن میں فوج نے کنٹرول سنھبال لیا

٭چھوٹو بہت بڑی فلم ہے

چھوٹو گینگ سے پولیس اہلکاروں کی رہائی کے لیے کیے جانے والے مذاکرات کے بارے میں نہ تو پنجاب حکومت اور نہ ہی فوج کا شعبۂ تعلقاتِ عامہ کچھ بتانے کو تیار ہے۔

ان مذاکرات میں چھوٹو گینگ کی طرف سے کیا شرائط پیش کی گئی ہیں ان کے بارے میں تفصیلات بتانا تو کجا حکومتی اہلکار یہ تک بتانے کو تیار نہیں ہیں کہ مذاکرات کس سطح پر کیے جا رہے اور کون کر رہا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق چھوٹو گینگ کو پیر کی دوپہر تک کی مہلت دی گئی تھی لیکن یہ مہلت گزر جانے کے باوجود یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا فیصلہ کن کارروائی شروع کر دی گئی ہے یا نہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈر ملتان نے علاقے میں موجود فوجیوں کی آپریشنل تیاری کا جائزہ بھی لیا۔

فوج کی جانب سے جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کی کمان سنھبالنے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کو مزید سخت کیا گیا ہے۔

سندھ اورپنجاب کی سرحد پر اور جنوبی پنجاب میں دریائے سندھ کے کچے کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی چوکیوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور حکمت عملی میں تبدیلی کی گئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق کئی دنوں سے جاری مذاکرات میں ترجیح یہی ہے کہ یرغمالیوں کو بازیاب کروایا جا سکے۔

بتایا گیا ہے کہ کچہ جمال میں چھپے چھوٹو گینگ کے خلاف گھیرا مسلسل تنگ کیا جارہا ہے۔

سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز کو بھی علاقے میں اتارا گیا ہے اور گینگ کے خلاف حتمی آپریشن کسی وقت بھی شروع ہوسکتا ہے۔

پولیس اور فوج کی جانب جاری کیے جانے والے بیانات میں بار بار اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ چھوٹو گینگ کے خلاف کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

’کسی نے ہتھیار نہیں ڈالے‘

Image caption علاقے سے 100 سے زیادہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے جن کے بارے میں پولیس کو شبہہ ہے کہ وہ گینگ کے سہولت کار ہیں

کچے کے چلاقے میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ’ آج تیسرا دن ہے پولیس کے 1600 اہلکار فوج کی بیک پر آگئے ہیں اور ہماری جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی، فوج کا کہنا ہے کہ آپ پیچھے جائیں جب آپ کو بلائیں گے تب آنا۔‘

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ وہ فوج سے دو کلومیٹر دور بیٹھے ہیں مگر اب تک کسی گولی چلنے کی آواز نہیں آئی نہ ہی وہ یہ جانتے ہیں کہ مذاکرات ہو رہے ہیں یا نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے کئی روز تک جاری رہنے والی کارروائی میں چھوٹو گینگ کے کسی فرد نے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ اہلکار کے مطابق ان جرائم پیشہ افراد کی تعداد 150 سے 200 کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اور پولیس اس سے قبل بھی کئی بار چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کر چکی ہے مگر وہ سندھ اور بلوچستان کے علاقوں میں روپوش ہو جاتا تھا اور اب اس کے گروہ میں ان علاقوں کے لوگ بھی موجود ہیں۔

دوسری جانب راجن پور میں ڈی پی او کے دفتر سے رابطہ کرنے پر ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے مقامی میڈیا کی ان خبروں کی تردید کی کہ علاقے کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے۔

علاقے سے 100 سے زیادہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے جن کے بارے میں پولیس کو شبہہ ہے کہ وہ گینگ کے سہولت کار ہیں۔

مقامی میڈیا میں چھپنے والی رپورٹس کے مطابق راجن پور اور رحیم یار خان کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی لگا دی گئی ہے اور چھوٹو گینگ کو ہتھیار ڈالنے کے لیے دی جانے والی ڈیڈ لائن پیر کی دوپہر دو بجے ختم ہو گئی تھی۔

جبکہ رات بھر کچے کے علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا اور کوبرا ہیلی کاپٹرز سے شیلنگ کی گئی۔ کارروائی کے دوران ڈرون کیمروں اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد لی گئی۔ کمانڈوز نے جرائم پیشہ گینگ کے ٹھکانوں تک پہنچنے کے لیے سموک گرینیڈ کا استعمال بھی کیا تاہم سرکاری ذرائع سے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

اسی بارے میں