حبیب بینک چین میں اپنا کاروبار شروع کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حبیب بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ اسے چین میں اپنا کارروبار شروع کرنے کے لیے نئی شاخ کھولنے کا لائسنس مل گیا ہے۔

حبیب بینک آف پاکستان اقتصادی طور پر دنیا کے دوسرے بڑے ملک چین میں اپنا کاروبار شروع کرنے والا جنوبی ایشیا کا پہلا بینک ہو گا۔

پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں حبیب بینک کا کہنا ہے کہ وہ چین میں اپنی پہلی شاخ اورموچی شہر میں کھولے گا جو تاریخی تجارتی راستے سلک روٹ پر پاکستان سرحد کے قریب واقع ہے۔

بینک کی طرف اس سلسلے میں کیے جانے والے اعلان میں اورموچی میں اپنی شاخ کھولنے کی حتمی تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ بینک نے کہا کہ وہ جنوب مشرق ایشیا سے تعلق رکھنے والا پہلا بینک ہے جس کو یہ لائسنس دیا گیا ہے۔

اورموچی چین کا معاشی طور پر تیزی سے ابھرتا ہوا شہر ہے اور علاقے میں تجارت کے بڑے مرکز کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اورموچی چین کی طرف سے وسطی ایشیا کے ملکوں تک رسائی کے لیے بنائی جانے والی شاہراوں کے راستے میں بھی آتا ہے۔

بینک کی طرف سے اورموچی میں اپنی شاخ کھولنے کا فیصلہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے سلسلے میں ہونے والی معاشی سرگرمیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے تحت چین پاکستان میں 46 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اس راہداری کا مقصد پاکستان کے صوبے بلوچستان میں واقع گوادر کی بندگار کو چین کے شہر سنکیانگ سے ملانا ہے۔

شارجہ کیپٹل کے سرمایہ کاری کے ماہر حمزہ کمال کا کہنا ہے کہ بینک دونوں ملکوں کے درمیان تیزی سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے اور بینک نے چینی سرمایہ کاروں اور تجاروں میں پہلے ہی اپنی ساکھ بنالی ہے۔

حبیب بینک آف پاکستان سنہ 1947 میں قائم ہوا تھا اور پاکستان کے بینکنگ کے شعبے کا چالیس فیصد حصہ اس کے پاس ہے۔

پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری میں رواں مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ 20 کروڑ چالیس لاکھ سے بڑھ کر 52 کروڑ 39 لاکھ ڈالر ہو گئی ہے۔

پاکستان ہر سال چین سے پانچ ارب ڈالر کی درآمدات کرتا ہے۔

چین کے انڈسٹریل اور کمرشل بینک جس کا شمار چین کے بڑے بینکوں میں ہوتا ہے اس کی کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں پہلے ہی کئی شاخیں موجود ہیں۔