پاناما لیکس پر حکومت کا پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں حکومتی اکابرین کا اجلاس ہوا

پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے پاناما لیکس سے متعلق پارلمینٹ میں موجود مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت نے ان ملاقاتوں کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا۔

وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں حکومتی اکابرین کا اجلاس ہوا جس میں پاناما لیکس کے حوالے سے پیدا ہونے والے صورت حال پر پارلیمانی لیڈروں سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا۔

پاناما لیکس کے انکشافات سے متعلق تحقیقات کے لیے اعلان کردہ جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں ممکنہ عدالتی کمیشن کے بارے میں نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں ہو سکا۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی کے نام پر پیپلز پارٹی نے تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ تحریکِ انصاف پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں عدالتی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو ان کے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جائے گا۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف اس معاملے کی تحقیقات آزاد کمیشن سے کروائی جائیں بلکہ فورینسک ماہرین کی ٹیم بھی اس کمیشن کی معاونت کرے۔ جبکہ وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ پاناما لیکس کے سامنے آنے اور شریف خاندان کے افراد کے متضاد بیانات سے ملک میں ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔

شریف خاندان پر الزامات کا جواب دینے کے لیے وزیر اعظم نواز شریف کو قوم سے خطاب کرنا پڑا لیکن حزب اختلاف کی جماعتیں اور ذرائع ابلاغ میں اٹھنے والا شور نہیں تھم سکا۔

اسی دوران وزیر اعظم نواز شریف علاج کی غرض سے لندن روانہ ہو گئے اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جرمنی کا دورہ کیا جہاں ایک اخبار نے سب سے پہلے پاناما لیکس کا انکشاف کیا تھا۔

اسی بارے میں