یونیورسٹی ایکٹ 2013 پر احتجاج سندھ میں جامعات پر تالے

Image caption سندھ کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں میں احتجاج کیا جا رہا ہے

سندھ کی تمام سرکاری جامعات میں پیر کو یونیورسٹی ایکٹ 2013 کے خلاف آل پاکستان یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی کال پر احتجاج کی وجہ سے تدریسی اور انتظامی امور معطل رہا۔

سندھ میں میڈیکل اور انجنیئرنگ کے شعبوں سمیت 10 کے قریب سرکاری جامعات موجود ہیں جن میں 2000 سے زائد اساتذہ فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

سندھ یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کی صدر عرفانہ ملاح کے مطابق 1992 کے یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کرکے یونیورسٹی ایکٹ 2013 لایا گیا ، جس سے جامعات کی خود مختاری صلب ہو رہی ہے۔

’سینیٹ اور اکیڈمک کاؤنسل جو داخلہ پالیسی مرتب کرتا ہے اور نصاب تشکیل دیتا ہے ان اداروں کے اختیارات چھین لیے گئے ہیں اس کے علاوہ یونیورسٹی میں براہ راست تقرریوں کے اختیارات وزیر اعلیٰ کو دے دیئے گئے ہیں ان اختیارات کے خلاف جامعات کے اساتذہ اور افسران مسلسل احتجاج اور لابنگ کر رہے ہیں۔

آل پاکستان یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن سندھ کے صدر نعمت اللہ لغاری کا کہنا ہے کہ حالیہ یونیورسٹی ایکٹ کے تحت حکمران اپنی مرضی سے جب جہاں جدھر چاہیں تعیناتی کردیں پھر چاہے امیدوار کسی رکن اسمبلی کا بھائی ہو یا کالج کا استاد۔ اگر کسی کو یونیورسٹی کا کوئی تجربہ نہ ہو، ملازمین، اساتذہ اور یونیورسٹی کے ماحول کو نہ سمجھتا ہو وہ معاملات کو کیسے چلا سکتا ہے۔

سندھ یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کی صدر عرفانہ ملاح کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ پرو وائس چانسلر، رجسٹرار اور کنٹرولر انتظامی طور پر وائس چانسلر کے ماتحت ہوں کیونکہ یہ افسران یونیورسٹی کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہوتے ہیں، اگر یہ باہر سے لائے جائیں گے تو اس سے یونیورسٹی کی ہم آہنگی متاثر ہوگی۔

آل پاکستان یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی کے سینیڈیکٹ اور سلیکشن بورڈ کے ذریعے تعیناتیاں کی جائیں اور ان اداروں کے یہ اختیارات بحال ہوں۔ نعمت اللہ لغاری کے مطابق اگر ایسا نہ کیا گیا تو جامعات کا بھی وہ ہی حال ہوگا جو اس وقت محکمہ تعلیم کی دیگر درسگاہوں کا ہے۔