’تفتیش کے لیے چھوٹو حساس اداروں کی تحویل میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption دریائے سندھ میں کچے کے علاقے میں واقع دس کلومیٹر طویل جزیرے پر چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کا آغاز پولیس نے تقریباً تین ہفتے قبل کیا تھا

پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں میں سرگرم جرائم پیشہ گروہ چھوٹوگینگ کے سربراہ غلام رسول نے 12ساتھیوں سمیت غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیے جبکہ اغوا کیے گئے 24 پولیس اہلکار بھی بازیاب ہو گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل عاصم باجوہ نے مختصر میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ گینگ کے سربراہ کو جزیرے سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ حساس اداروں کی تحویل میں ہیں۔

پولیس اہلکاروں کی رہائی اور گینگ کے ارکان کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کا عمل بدھ کی صبح مکمل ہوا۔

٭ چھوٹو گینگ کیا ہے؟

٭راجن پور آپریشن میں فوج نے کنٹرول سنبھال لیا

٭چھوٹو بہت بڑی فلم ہے

فوج کے ترجمان نے بتایا کہ جزیرہ پرگینگ میں شامل افراد کے خاندان کی 24 خواتین، 44 بچوں اور 4 بزرگوں کو بھی حفاظتی تحویل میں لے کر جزیرے سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption چھوٹو گینگ میں شامل جرائم پیشہ افراد کی تعداد 150 سے 200 کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے

انھوں نے کہا کہ جزیرے پر آپریشن اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک وہاں موجود تمام جرائم پیشہ افراد ہتھیار نہ ڈال دیں یا اُن کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔

لیفٹینٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ جزیرے پر آپریشن مشکل ہے اور وہاں گھنے جنگل، دلدل اور بنکرز بنے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’تمام نو گو ایراز کو ختم کیا جائے گا اور آرمی چیف نے کہا کہ ملک کے کسی بھی علاقے میں نو گو ایرا برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

ذرائع کے مطابق اب ہتھیار ڈالنے والوں اور رہائی پانے والے پولیس اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ کچہ جمال کے علاقے میں منگل کو فوج کی جانب سے پمفلٹ پھینکے گئے تھے جن میں چھوٹو گینگ کے سرغنہ اور ارکان سے کہا گیا ہے کہ وہ مغوی پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیں اور ہتھیار ڈال دیں بصورتِ دیگر فوجی کارروائی کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption فوج کے ترجمان نے بتایا کہ جزیرہ پرگینگ میں شامل افراد کے خاندان کی 24 خواتین، 44 بچوں اور 4 بزرگوں کو بھی حفاظتی تحویل میں لے کر جزیرے سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے

انھیں پمفلٹس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ہتھیار ڈالنے کے لیے منگل کو غروبِ آفتاب سے قبل کشتی پر سفید جھنڈا لگا کر تمام افراد دریا کے کنارے پر پہنچیں۔

خیال رہے کہ دریائے سندھ میں کچے کے علاقے میں واقع دس کلومیٹر طویل جزیرے پر چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کا آغاز پولیس نے تقریباً تین ہفتے قبل کیا تھا۔

اس دوران سات پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور 24 کو یرغمال بنائے جانے کے بعد اس آپریشن کی کمان پاکستانی فوج نے سنبھال لی تھی جسے پولیس اور رینجرز کی مدد حاصل ہے۔

اس گینگ کو ابتدائی طور پر پیر کی دوپہر دو بجے تک ہتھیار ڈالنے کے لیے مہلت دی گئی تھی اور مہلت گزر جانے کے بعد ’فیصلہ کن کارروائی‘ کی تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption کچا جمال کے علاقے میں فوج اب بھی مصروف ہے

چھوٹو گینگ میں شامل جرائم پیشہ افراد کی تعداد 150 سے 200 کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اور پولیس اس سے قبل بھی کئی بار چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کر چکی ہے جو کامیاب نہیں ہو سکے۔

اسی بارے میں