کمیشن بنانے کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھیں، اپوزیش کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے حزب اختلاف کی جماعتیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنانے پر متفق ہیں اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ کمیشن بنانے کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے وزیراعظم کے انتہائی قریبی اور اہم حکومتی وزیر اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر بات کی۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے انکشافات پر تحقیقات کا معاملہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق اور شفاف انداز میں آگے بڑھنا چاہئے۔ یہ بات انھوں نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ٹیلیفون پر رابطہ کرنے پر کی۔

سید خورشید احمد شاہ نے اسحاق ڈار کو اپوزیشن کے موقف سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت عدالتی کمیشن کے قیام کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھے اور فرانزک آڈٹ اس کمیشن کے ’ٹی او آرز‘ کا بنیادی حصہ ہو اور اگر چیف جسٹس انکار کر دیں تو پھر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل پر غور کیا جا سکتا ھے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ مشاورت کے بعد اس معاملے پر قائد حزب اختلاف کو آگاہ کریں گے ۔

بعد ازاں آفتاب احمد خان شیر پاو کی رہائش گاہ پر اعتزاز احسن ، اعجاز خان جاکھرانی ، سید نوید قمر اور سینیٹر سعید غنی نے سید خورشید احمد شاہ کی قیادت میں ملاقات کی اور پاناما لیکس کے معاملے پر مشاورت کی اور اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ حکومت فوری طور پر چیف جسٹس کو خط لکھے کہ وہ اپنی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیں۔ اوراس کمیشن کے تحت وزیر اعظم اوران کے خاندان کے مالی معاملات کی چھان بین فورنزک ٹی او ارز کی بنیاد پر اولین معاملہ ہونا چاہئے۔

بعد ازاں سید خورشید احمد شاہ نے بدھ کو ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور مسلم لیگ ق کے پارلیمانی لیڈر چوہدری پرویز الہی سے بھی فون پر رابطہ کیا اور طے پایا کہ بروز پیر پیپلزپارٹی کا وفد دونوں پارٹیز کے رہنماوں سے پاناما لیکس کے معاملے پر مشاورت کے لیے ملاقات کرے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم برطانیہ کا نجی دورہ مکمل کر کے گذشتہ شب ہی وطن واپس لوٹے ہیں جبکہ پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر سطح پر بلا تفریق احتساب کو یقینی بنانے اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو کہا گیا ہے کہ تحقیقات سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے بجائے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کروائی جائیں۔

یاد رہے کہ پاناما لیکس میں وزیراعظم کے بچوں کی آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب کیا تھا اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا۔

کمیشن یا پارلیمانی کمیٹی

سعید غنی نے بتایا کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو عدالتی کمیشن بنانے کے لیے کہا گیا لیکن اگر چیف جسٹس کسی وجہ سے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی نہیں کرتے تو پھر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر پارلیمانی کمیٹی بنائی جاتی ہے تو اس میں حکومت سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی یکساں نمائندگی ہو اور حزب اختلاف کی جماعتیں تحقیقات کے لیے ٹرمز آف ریفرنس بنائیں گی۔‘

پاکستان کی قومی اسمبلی قائد حزب اختلاف خورشید شاہ اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے تحقیقاتی کمیشن کے معاملے پر حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ نے اسحاق ڈار سے ملاقات کرنا تھی لیکن اعتزاز احسن کی عدم موجودگی کی بنا پر ملاقات کے بجائے ٹیلی فون پر بات کی گئی۔

خورشید شاہ سے بات چیت کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ اپوزیشن کے مطالبے پر وزیراعظم سے مشاورت کر کے انھیں مطلع کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تحقیقات کریں اور انھیں انٹرنیشنل فورینسک آڈٹ ٹیم کی معاونت حاصل ہو۔

انھوں نے کہا کہ ’سرکاری لوگوں میں کہاں اتنا دم خم ہے کہ وہ وزیراعظم کے بینک اکاونٹوں کی جانچ پڑتال کریں۔ بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم ضروری ہے اور کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس بھی مشاورت سے بنائے جانے چاہییں۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کمیشن کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے ٹائم فریم دیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’حکومت سنجیدگی کے بجائے اپوزیشن کو تقسیم کرنے میں مصروف ہے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ روز دونوں ایوانوں کے اپوزیشن رہنماؤں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ملاقات کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور نے کہا تھا کہ پاناما لیکس میں وزیراعظم کے خاندان کا نام آیا ہے اس لیے اس معاملے کو سنجیدہ لیا جائے تاکہ پاکستان کی شبیہ خراب نہ ہو۔

اس موقعے پر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ وزیراعظم نے اتنا بڑا جرم کیا ہے کہ پاکستان کو حزیمت اُٹھانی پڑ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر یہ حقائق سامنے آئے ہیں اور اُن کے بچوں نے اعتراف کیا ہے کہ یہ جائیداد اُن کی ہے لیکن ان اثاثوں کو کہیں ظاہر نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں