جماعت الدعوۃ کی عدالت کے سمن کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست

پاکستان میں کالعدم جماعت الدعوۃ کی جانب سے لاہور میں قائم کی گئی شرعی عدالت کی طرف سے سمن موصول ہونے کے بعد ایک شہری نے ہائی کورٹ میں ملک میں متوازی عدالتی نظام قائم کرنے اور آئین کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں درخواست دائر کی ہے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ جماعت الدعوۃ نے ملک میں متوازی عدالتی نظام قائم کر رکھا ہے جو غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

یہ درخواست سمن آباد کے رہائشی ایک پراپرٹی ڈیلر خالد سعید کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

خالد سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں جماعت الدعوۃ کی مسجد قادسیہ کی جانب سے عدالتی سمن کی طرز کا ایک نوٹس موصول ہوا جس پر ’دارالقضا الشرعی‘ اور ’ثالثی شریعی عدالت عالیہ‘ لکھا ہوا ہے۔

Image caption جماعت الدعوۃ کی طرف سے خالد سعید کو 25 جنوری تک کی مہلت دی گئی تھی

’میرے خلاف محمد اعظم نامی شخص نے شکایت کی تھی۔ جس سے میرا لین دین کا تنازعہ ہے۔ 19 جنوری کو جماعت الدعوۃ کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹس میں تنبیہ کی گئی کہ اگر میں مسجد قادسیہ میں پیش نہ ہوا تو میرے خلاف یکطرفہ کارروائی کر دی جائے گی اور یہی نہیں مجھے دھمکی آمیز فون بھی آتے رہے ہیں۔ جن نمبروں سے کال کی گئی تھی میں نے درخواست میں وہ بھی درج کیے ہیں۔‘

جماعت الدعوۃ کی طرف سے خالد سعید کو 25 جنوری تک کی مہلت دی گئی تھی اور خط کے مطابق عدم پیشی کی صورت میں ’حسب ضابطہ شریعی کارروائی‘ عمل میں لانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

خالد سعید نے اپنی درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وفاقی وزیر قانون، آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور اور جماعت الدعوۃ کے قاضی حافظ ادریس کو فریق بنایا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے خالد سعید کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ مقدمے کی سماعت اب 26 اپریل کو ہوگی۔

چند ہفتے پہلے جماعت الدعوۃ کی ثالثی عدالتوں سے متعلق خبریں منظر عام پر آئی تھیں تو پنجاب حکومت کے ترجمان سید زعیم قادری نے انھیں رد کیا تھا۔

زعیم قادری کا کہنا تھا کہ ’اگر جامعہ قادسیہ سے کسی کو سمن جاری کیے گئے ہیں تو وہ پولیس کے نوٹس میں لائے، حکومت کسی سے کوئی رعایت نہیں برتے گی۔‘

خالد سعید کہتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر پہلے وفاقی وزارت قانون، چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سمیت کئی حکام کو تحریری شکایت کرچکے ہیں جس کی کاپیاں چیف آف آرمی سٹاف، وزیراعظم، وزیراعلیٰ، کور کمانڈر وزیرداخلہ اور وزیر قانون پنجاب کو بھی بھجوا چکے ہیں، تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’اب وہ مجھے فون تو نہیں کرتے لیکن ان کے بندے میرے دفتر کے باہر ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ جو بھی مجھ سے ملےگا اس کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو میرے ساتھ ہوا۔ میں تو اب دفتر بھی نہیں جا رہا۔‘

جماعت الدعوتہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جماعت الدعوتہ کی قائم کردہ ثالثی کونسل کا مقصد علما کی رہنمائی میں فریقین کے رضامندی سے ثالتی کا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ نہ تو کسی قسم کا سمن جاری کرتی ہے اور نہ ہی ثالتی کے لیے کوئی فیس لی جاتی ہے۔ جماعت الدعوتہ ملکی عدالتی نظام پر مکمل یقین رکھتی ہے۔‘

اسی بارے میں