پاناما لیکس اور وزیر اعظم نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افشا ہونے والی دستاویزات کے بعد نواز شریف کا مستقبل کیا ہے؟

پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے کی جانب سے افشا ہونے والی ایک کروڑ دس لاکھ دستاویزات میں دنیا بھر کے سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات کے تعلقات، آف شور کمپنیوں اور اکاؤنٹس کے بارے میں پتہ چلا ہے۔

ان تمام شخصیات میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی فیملی بھی شامل ہے۔

پاناما لیکس ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب نواز شریف پاکستان کی طاقتور فوج کے خلاف حالیہ جنگ کے بعد پہلے سے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔

افشا ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف کے تین بچوں کی آف شور کمپنیاں اور اثاثے ہیں جو ان کے خاندانی اثاثوں میں ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔

آف شور کمپنیوں کی شناخت تین برٹش ورجن آئی لینڈ کی نیسکول لمیٹڈ، نیلسن انٹرپرائزز لمیٹڈ اور ہنگون پراپرٹی ہالڈنگز لمیٹڈ کمپنیوں کے نام سے ہوئی ہے جنھیں بالترتیب سنہ 1993، 1994 اور 2007 میں بنایا گیا تھا۔

ان کمپنیوں کو غیر ملکی اثاثے حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا جن میں لندن کے مے فیئر علاقے میں پارک لین کے قریب اپارٹمنٹس کی خریداری شامل ہیں۔

ان الزامات نے نواز شریف کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ یہ کمپنیاں کالا دھن سفید کرنے، چھپانے یا ٹیکسوں سے بچنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔

دوسری جانب دنیا بھر میں سیاسی رہنماؤں سے مستعفی ہونے کے لیے ہونے والے مظاہروں اور احتجاج کی وجہ سے ان پر بھی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

افشا ہونے والی دستاویزات کی وجہ سے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن میں کھلبلی مچ گئی ہے اور نواز شریف کے غیر متوقع دورۂ لندن کے پیچھے بھی یہی بڑھتا ہوا دباؤ دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی اعلیٰ شخصیات کے خیال میں وزیر اعظم نواز شریف کے نام پر کوئی بھی آف شور کمنی یا اثاثے سامنے نہیں آئے ہیں اس لیے انھیں اس چیز کے لیے جوابدہ نہیں ہونا چاہیے جو ان کے بیٹوں کی ملکیت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افشا ہونے والی دستاویزات کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی جرم سرزرد ہوا ہے۔

نواز شریف خود بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ’افشا ہونے والی دستاویزات ان لوگوں کا کام ہے جو مجھے اور میرے خاندان کو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان اس وقت نواز شریف کو سب سے زیادہ کو مشکل میں ڈالے ہوئے ہیں

انھوں نے پانچ اپریل کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سب وہ لوگ کر رہے ہیں غیر قانونی طور پر حاصل کی جانے والی دولت استعمال کرتے ہیں، اپنے نام پر کوئی اثاثے نہیں رکھتے۔‘

اپنے خطاب میں انھوں نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے لیے ریٹائرڈ ججوں کے زیر نگرانی ایک انکوائری کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا جسے بڑے پیمانے پر میڈیا اور حزب مخالف کی جماعتوں نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ماضی میں ایسی انکوائریوں کا کوئی نتیجہ نہیں آ پایا۔

اس معاملے پر سب سے زیادہ حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شور مچایا ہے۔

عمران خان نے وزیر اعظم نواز شریف سے استعفے اور ان الزامات کی انکوائری چیف جسٹس آف پاکستان سے کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں انھوں نے عوامی احتجاج اور لاہور میں نواز شریف کے گھر کا گھیراؤ کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔

اس کے بعد تو تو میں میں کی فضا قائم ہو گئی اور دونوں جانب سے ایک دوسرے ذاتی حملے ہونے لگے ہیں۔

نتیجاً حکومت کی جانب سے جتنے بھی ریٹائرڈ ججوں سے انکوائری کمیشن کے لیے رابطہ کیا گیا انھوں نے اس پیش کش کو مسترد کر دیا ہے۔

دوسری جانب دیگر حزب مخالف کی بڑی جماعتوں نے بھی چیف جسٹس کی زیر نگرانی تحقیقات کا مطالبہ تو کیا لیکن وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے یا عوامی سطح پر احتجاج میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔

بدعنوانی کے الزامات سنہ 1980 کی دہائی سے نواز شریف کا پیچھا کرتے آرہے ہیں اور پاناما پیپرز میں افشا ہونے والے الزامات میں سے زیادہ تر سنہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں ان کے خلاف ہونے والی وفاقی سطح پر تفتیش میں شامل تھے۔

نواز شریف نے 1997 میں جب اقتدار سنبھالا تو انھوں نے اس انکوائری کو ’سیاسی خواہش‘ قرار دیتے ہوئے بند کرنے کا حکم دے دیا۔

لیکن اس مرتبہ انھیں اور ان کے خاندان کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ غیر ملکی اثاثوں کے حصول کے لیے آف شور کمپنیوں کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

منگل کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کو ختم کیے بغیر ملک میں امن و استحکام ممکن نہیں ہے اور مسلح افواج ہر سطح پر احتساب کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات کی حمایت کرے گی۔

آرمی چیف کے اس بیان پر بعض کا کہنا ہے کہ یہ صرف موجودہ حالت میں اظہار یکجہتی کے لیے تھا جبکہ چند سابق فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ یہ بیان ان کا ارادہ ظاہر کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاناما لیکس میں سیاسی رہنماؤں کے نام سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں ان کے استعفے کے مطالبے کے لیے مظاہرے کیے گئے

سیاسی اور دفاعی تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے اپنے حالیہ شائع شدہ مضمون میں ممکنہ صورت حال پر روشنی ڈالی ہے۔

ان کے مطابق گلی،گلی مظاہروں کے آغاز کی وجہ سے پاکستان کے اندرونی تنازعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول حکومت اور حزب مخالف کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اِن ہاؤس تبدیلی آسکتی ہے یا پھر ان کے مطابق ایک خاص مدت کے لیے فوج کا حمایت یافتہ سویلین نظام لایا جا سکتا ہے تاکہ مسائل کا خاتمہ کیا جا سکے۔

تاہم زیادہ تر امکان جس صورت حال کا ہے وہ یہ کہ نواز شریف فوج کو مزید اختیارات حوالے کرنے کے بعد بطور کمزور رہنما حکومت ہی میں رہیں۔

پاکستان کی فوج اور جمہوریت کے درمیان تذبذب ریاست کے لیے احتساب کے آزادانہ نظام میں رکاوٹ رہا ہے۔

کئی ملٹری حکمران کرپشن اور احتساب کو مخالف سیاست دانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

جنرل ضیا الحق 1980 کی دہائی میں اپنے دور اقتدار کے دوران اس معاملے کو سیاست دانوں کی نئی قسم اور ایک ایسے معاشی طریقہ کار کا نظام لا کر جس کے تحت سرکاری فنڈز میں خوردبرد قابل قبول ہو ایک قدم آگے بڑھ گئے۔

ایک ایسا معاشرہ جہاں خاندان اور قبیلوں کے تعلقات کی بنا پر ملازمتوں کی تقسیم اورسرکاری سپرستی ہوتی ہو وہاں سیاسی بدعنوانی پھیلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

سیاست دان شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ صرف انھی کو بدعنوانی کے خلاف مہم چلا کر نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ عدالتی نظام اور فوج اس سب سے مبرا سمجھی جاتی ہے۔

جبکہ عدلیہ اور فوج کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اندرونی احتساب کا نظام موجود ہے اور انھیں حکومتی کنٹرول کی ضرورت نہیں ہے۔

حال ہی میں ایک حاضر سروس چیف جسٹس پر ریئل سٹیٹ کی بڑی شخصیت سے مراعات حاصل کرنے کا الزام لگا تھا اور کم سے کم دو ججوں، جن میں سے ایک ریٹائر ہو چکے ہیں، کے نام پاناما پیپرز میں آف شور کمپنیوں کی ملکیت ہونے کے باعث آ چکے ہیں۔

اس تمام صورت حال میں جب کہ پاکستان ایک کے بعد ایک الجھن میں مبتلا ہے، جمہوریت، قانون کی بالادستی اور صحیح احتساب کی منفی تعبیر سامنے آ رہی ہے۔

اسی بارے میں