پاناما لیکس کی تحقیقات، ٹاسک فورس بنانےکامطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے صدارتی آرڈیننس کے تحت نیشنل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو اقوام متحدہ کے کنوینشن برائے انسداد بدعنوانی کے تحت جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنا کر بیرونی دنیا سے شواہد جمع کر سکے۔

لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہ تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاناما لیکس سے بدعنوانی اور کرپشن کی بو آتی ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے حکومت کی طرف سے سابق جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دینے کی تجویز کو رد کر دیا اور کہا کہ مقامی سطح پر بنایا جانے والا کمیشن بے سود ہوگا۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پاکستانی قوم سچ اور حق جاننا چاہتی ہے لیکن ریٹائرڈ یا موجودہ ججز پر مشتمل انکوائری یا جوڈیشل کمیشن ، پارلیمانی کمیشن یا ایف بی آر کے ذریعے پاناما لیکس کی تحقیقات ناممکن اور وقت کا ضیاع ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاناما لیکس کے تمام شواہد اور دستاویزات پاکستان سے باہر ہیں اور مقامی کمیشن بیرون ملک شواہد اکٹھے کرنے سے قاصر ہو گا اس لیے پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسداد بدعنوانی کا فائدہ اٹھایا جانا چاہیئے جس پر پاناما، برطانیہ اور پاکستان نے دستخط کررکھے ہیں۔

اس کنونشن کے تحت تمام ممالک مشترکہ قانونی درخواست کے ذریعے ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت ایک آرڈیننس کے ذریعے ایک نینشل ٹاسک فورس تشکیل دے جس میں چیف جسٹس کے نام زد کردہ سپریم کورٹ کے دو ریٹائڑڈ ججز اور سینئر قانون دان شامل ہو، جس کو بیرون ملک سے شواہد اور دستاویزات جمع کرنے کے ساتھ جوائنٹ انٹرنیشل انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا بھی اختیار ہو۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹاسک فورس میں فورینزک اکاؤنٹنٹ اور مالی کرپشن کے تحقیقاتی ماہرین بھی شامل ہوں، تمام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو ٹاسک فورس کے ساتھ تعاون کا پابند بنایا جائے اور ضرورت پڑنے پر نیب، ایف بی آر، ایس ای سی پی، ایف آئی اے یا کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی کو ٹاسک فورس کے سامنے پیش ہوں۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کے مستعفی ہونے کا مطالبہ سیاسی ہے لیکن تحقیقات کا آغاز وزیراعظم سے ہی کیا جانا چاہئے۔ اور ان کے بعد جو دیگر حکومتی عہدیدار اور دیگر لوگوں تک تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جائے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہاکہ نینشل ٹاسک فورس دو ماہ کے عرصے میں پاناما لیکس پر اپنی تحقیقات مکمل کر لے تاہم اگر ضروری ہوا تو اس کو چھ ماہ تک بڑھایا جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کھلے عام تحقیقات کرے اور اسے یہ اختیار ہو کہ وہ اپنی تحقیقات کو خود ہی شائع کرسکے۔

اسی بارے میں