کراچی میں القا‏عدہ کا اہم رہنما ’گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ bb
Image caption پولیس کے مطابق ملزم کی 1997 میں اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری سے کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں اور اس کا امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے کیس میں ملوث سعود میمن کے ساتھ بھی تعلق رہا ہے

کراچی میں پولیس نے القاعدہ کے امیر عبدالرحمان سندھی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ صفورا واقعے کے مرکزی کردار طاہر منہاس کے استاد رہے ہیں۔

ایس ایس پی وسطی مقدس حیدر کا کہنا ہے کہ عبدالرحمان سندھی کو رہائشی علاقے رضویہ کی حدود سے گرفتار کرکے ایک نائن ایم ایم پستول برآمد کی گئی ہے اور ملزم کا تعلق القاعدہ سے ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم کی 1997 میں اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری سے کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں اور اس کا امریکی صحافی ڈینیل پرل کے کیس میں ملوث سعود میمن کے ساتھ بھی تعلق رہا ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 12 مارچ 2012 کو جاری کیےگئے اعلامیے میں عبدالرحمان کا تعلق میرپور خاص سے ظاہر کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ وہ القاعدہ کو مالی معاونت کرتے رہے ہیں۔

عبدالرحمان سندھی کراچی میں گذشتہ سال اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے ملزم طاہر منہاس کے پڑوسی اور استاد بھی رہے چکے ہیں۔

جوائنٹ انٹیروگیشن رپورٹ کے مطابق طاہر منہاس نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا 2001 میں ان کی عبدالرحمان سے کوٹڑی میں ہی ملاقات ہوئی تھی جو بظاہر پاسپورٹوں اور شہد کا کاروبار کرتے تھے لیکن اصل میں ان کا تعلق القاعدہ سے تھا۔

عبدالرحمان بعد میں کراچی منتقل ہوگئے۔ طاہر منہاس کے بیان کے مطابق ان کی عبدالرحمان سے گلستان جوہر میں ایک ہوٹل میں ملاقات ہوئی تھی اور اسی نے انھیں افغانستان تربیت کے لیے جانے کا مشورہ دیا تھا اور وہ اس مشورے کی پیروی کرتے ہوئے پولٹری کا کاروبار بند کرکے افغانستان چلے گئے۔

جے آئی ٹی کے مطابق عبدالرحمان عرف سندھی عرف شاہ صاحب کو تین چار سال قبل سی آئی ڈی پولیس نے گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد تنظیمی ذمہ داری ان کے بردار نسبتی عمر عرف جلال چانڈیو کو سونپی گئیں تھی۔ عمر عرف جلال سے اختلافات کی وجہ سے طاہر منہاس نے القاعدہ سے علیحدگی اختیار کرکے اپنا گروپ بنایا جس نے اسماعیلی بس پر حملہ کیا۔

اسی بارے میں