’الزام ثابت ہوا تو وقت ضائع کیے بغیرگھر چلا جاؤں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قوم سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ تحقیقات میں اگر ان کے خلاف ایک بھی الزام ثابت ہوا تو وہ وقت ضائع کیے بغیر گھر چلے جائیں گے

حکومتِ پاکستان نے پاناما لیکس کی عدالتی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس ترجیحی طور پر اس عدالتی کمیشن کی سربراہی کریں۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ عدالتی کمیشن پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں تحقیقات کرے۔

وزارت قانون کے قائمقام سیکرٹری کی طرف سے لکھے گئے خط کے ساتھ ضابط کار بھی لگایا کیا گیا ہے جس کے مطابق عدالتی کمیشن موجودہ اور سابق عوامی عہدہ رکھنے والوں کی بھی تحقیقات کرے گا۔

اس کے علاوہ اس ضابطہ کار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام وفاقی اور صوبائی ادارے کمیشن کی معاونت کے پابند ہوں گے۔

اس ضابطہ کار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیشن حلف نامے پر دستاویزات وصول کرے گا اور دستاویزات پیش کرنے والے شخص پر جرح کے لیے کمیشن بھی بنا سکتا ہے۔ ا س ضابطہ کا ر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالتی کمیشن اپنے مقرر کردہ وقت پر کارروائی شروع کرسکتا ہے اور کمیشن اس بارے میں سفارشات بھی دے سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی عدم موجودگی میں جسٹس ثاقب نثار پاکستان کے قائممقام چیف جسٹس ہوں گے

ضابطہ کار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آف شور کمپنیوں کے بارے میں عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کمیشن اپنی سربمہر رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کرے گا۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالتی کمیشن ان قرضوں کا بھی پتہ لگائے جو سیاسی اثرورسوخ استمعال کرتے ہوئے معاف کروائے گئے۔

پاکستان کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی ترکی کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں اور وہ یکم مئی کو وطن واپس لوٹیں گے۔ جسٹس ثاقب نثار اُن کی عدم موجودگی میں پاکستان کے قائمقام چیف جسٹس ہوں گے۔

اس سے قبل وزیرِ اعظم نواز شریف نے جمعے کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے اپنے خلاف لگنے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاناما لیکس میں کیےگئے انکشافات کے بعد دوسری مرتبہ قوم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ان کے تمام اثاثے ظاہر کر دیے گئے ہیں اور تحقیقات میں اگر ان کے خلاف ایک بھی الزام ثابت ہوا تو وہ وقت ضائع کیے بغیر گھر چلے جائیں گے۔

’میں چیف جسٹس کو خط لکھوں کا کہ وہ مجھ پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیں۔‘

’میں کمیشن کی سفارشات قبول کروں گا۔ اگر مجھ پر الزامات ثابت نہ ہوئے تو وہ لوگ جو جھوٹے الزامات کا بازار گرم کرتے ہیں وہ قوم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہوسِ اقتدار کی خاطر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد انھوں نے پاکستانی قوم کو اعتماد میں لیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ان پر الزامات لگے لیکن کبھی کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔

’میں نے ایک جمہوری ملک کے وزیراعظم ہونے کے ناطے تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا۔تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’پاناما لیکس کو بنیاد بنا کر جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ 22 برس پرانے ہیں۔ پہلے 90 کی دہائی میں کی گئی اور پھر پرویز مشرف کی غیر آئینی حکومت نے چھان بین کی لیکن غیر قانونی منتقلی یا کرپشن ثابت نہیں کر سکے۔‘

وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا تھا ’ایک مرتبہ پھر خود کو اور اپنے پورے خاندان کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں۔‘

’ہمارا خاندان اس وقت سے ٹیکس دے رہا ہے جب کچھ لوگوں کو اس لفظ کے ہجے بھی نہیں آتے تھے۔ اور ہم نے ٹیکس کے نظام کو شفاف بنایا۔ ہم خود لوگوں کو کہتے ہیں کہ وہ ہمارے اثاثے اور ٹیکس کے گوشوارے دیکھیں۔‘

’میں اس تنخواہ کا بھی حساب دینے کے لیے تیار ہوں جو میں نے کبھی وصول ہی نہیں کی۔‘

انھوں نے اپنے ناقدین کے حوالے سے کہا کہ وہ انھیں بتانا چاہیں گے کہ پاکستان عوام باشعور ہیں۔

انھوں نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے بڑی جدوجہد سے خود کو آمریت کی زنجیروں سے آزاد کیا ہے۔

’آپ میں سے اکثر لوگ چھوٹے الزامات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ کسی بھی شہری کے خلاف الزامات شائع یا نشر کرنے سے پہلے خود کو اس جگہ رکھ کر سوچیں کہ انھیں کیا لکھنا یا نشر کرنا چاہیے۔‘

نواز شریف کا کہنا تھا اس سارے معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ کچھ سوال ہمارے بھی ہیں۔

’آخر ہمیں سعودی عرب کس نے اور کیوں بھیجا تھا؟ ایک منتخب وزیراعظم کو ہتھکڑیاں لگا کر کال کوٹھری میں کیوں بھیجا گیا تھا؟‘

’جب ہمارے کاروبار اور ذاتی رہائش گاہ پر تالے لگائے تو اِکا دُکا لوگوں کے علاوہ ان لوگوں کے منہ پر بھی تالے پڑ گئے جو اب نیکی کے پتلے بنے ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے سابق صدر پرویز مشرف کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’ججوں کو ان گھروں کو نظر بند کرنے کا الزام، مجھ پر ہائی جیکنگ کا جھوٹا مقدمہ بنانے کا الزام، کیا ان سب کا جواب نہیں مانگا جانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں