’سب کا احتساب ہو لیکن آغاز وزیر اعظم سے ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاناما لیکس کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں حزب اختلاف کی جماعتیں اس ضمن میں ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے میں سرگرداں ہے اور پیر کو اس سلسلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حزب اختلاف کے رہنماؤں میں اہم ملاقاتیں ہوئیں۔

وفاقی دارالحکومت میں خصوصا اور ملک بھر میں عموماً حزب اختلاف کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں لیکن حزب اختلاف کی جماعتیں عمومی اتفاق کے باوجود ایک جگہ کھڑی نظر نہیں آ رہیں۔

اس سلسلے میں قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور سینیٹ میں قائد ایوان اعتزاز احسن نے تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ ق کے رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں میں دو مئی کو پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی حزب اختلاف کی جماعتوں کو اجلاس بلانے پر اتفاق رائے کے علاوہ پاناما لیکس پر تحقیقات کے لیے حکومت کی طرف سے اعلان کردہ ضابط کار یا ٹی او آرز کو مسترد کر دیا گیا۔

سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومتی کلا بازیوں اور ٹال مٹول سے واضع ہو رہا ہے کہ اس سارے معاملے میں کچھ ایسا ضرور ہے جس کی پردہ داری کی جا رہی ہے۔

خورشید شاہ احمد شاہ نے مزید کہا کہ اس بات پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے لیکن شروعات وزیراعظم کے خاندان سے ہوں۔

قائد حزب اختلاف اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے درمیان پیر کو ہونے والی ملاقاتوں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ 2 مئی کو اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس اسلام آباد میں بلایا جائے گا اور اس میں ’ون پوائنٹ ایجنڈے پر بات چیت ہو گی جو کہ پاناما لیکس ہے۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کے مرتب کردہ ٹی او آرز کو مسترد کرتی ہے۔

سنیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ جس ایکٹ کے تحت پاناما لیکس کمیشن تشکیل دیا گیا ہے اس ایکٹ کے تحت سینکڑوں انکوائریاں کی گئیں مگر آج تک کسی ایک پر بھی عمل در آمد نہیں کیا گیا۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے پر وسیع تر مشاورت کے بعد لائحہ عمل طے کرنا چاہیے تھا اور اب بھی وقت ہے کہ وہ اپوزیشن سے مشاورت کرے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاناما لیکس کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا بھی بہت اہم کردار ہے اور اس معاملے کے حوالے سے اپوزیشن متحد ہو کر آگے بڑھ رہی ہے۔

سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ حکومت کے ٹی او آرز سے اپوزیشن کے خدشات کو تقویت ملتی ہے اور اگر 1947 سے تحقیقات ہوں گی تو اس کا نتیجہ سو سال کے بعد آئے گا۔

حکومت کے ٹی او آرز کو اپوزیشن کی کوئی جماعت ماننے کو تیار تیار نہیں ہے۔ بعد ازاں سید خورشید احمد شاہ ، سنیٹر اعتزاز احسن، سید نوید قمر ایم این اے، سنیٹر سعید غنی ملاقات کیلیے چوہدری شجاعت حسین ، چوہدری پرویز الہی کے گھر گئے اور پاناما لیکس پر مشاورت کی۔

ملاقات میں طے پایا کہ اپوزیشن کے اتفاق رائے کے بغیر ٹی او آرز قابل قبول نہیں ہوں گی اور وزیر اعظم اس معاملے کو الجھانے کی بجائے اپنے عہدے کی حساسیت کے پیش نظر وہ راستہ اختیار کریں جس سے ان کا اور ان کے خاندان کا معاملہ جلد از جلد کلیئر ہو۔

اسی بارے میں