’برف پگھلی نہیں تو جمی بھی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مبصرین کی حد تک اس بات پر اتفاق ہے کہ مذاکرات کا ہونا ہی غنیمت ہے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹروں کے درمیان منگل کو ہونے والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے علیحدہ علیحدہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ اس ملاقات میں باہمی تلخیاں، کشیدگی اور بداعتمادی کم کرنے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

دونوں ملکوں کے بیانات، بیانات کم اور الزامات کی فہرست زیادہ نظر آتے ہیں۔

پاکستان نے جہاں بلوچستان اور کراچی میں ’را‘ کی سرگرمیوں اور کلبھوشن یادو کی گرفتاری کی بات کی ہے وہاں بھارت نے پاکستان کو ان ’دہشت گرد گروہ‘ کو قابو کرنے کی بات ہے جو اس کے بقول بھارت کے اندر مبینہ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ اسی تناظر میں بھارت کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں پٹھان کوٹ حملے کا ذکر کیا گیا۔

ایٹمی صلاحیت رکھنے والے جنوب مشرقی ایشیا کے ان دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی تاریخ بھی اتنی ہی طویل ہے جتنی ان دونوں ملکوں میں لڑائیاں اور جھگڑوں کی داستان۔

تاہم مذاکرات کی تاریخ جتنی بھی تلخ ہو دونوں اطراف کے مبصرین کی حد تک اس بات پر اتفاق ہے کہ دونوں ملکوں میں مذاکرات کا ہونا ہی غنیمت ہے۔

نئی دہلی میں صحافی اور تجزیہ کار ششانت سرن نے اس بات سے اتفاق کیا کہ حالیہ ملاقات میں تلخیاں کم نہیں ہوئی ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ یہ تاثر کے اس ملاقات میں ’برف پگھلنے کے بجائے مزید جم گئی ہے حقیقت پر مبنی ہے۔‘

دونوں طرف سے جاری ہونے والے بیانات پر انھوں نے کہا کہ بھارت نے وہ کہا جسے وہ اہمیت دیتا ہے اور پاکستان نے وہ کہا جسے وہ اہمیت دیتا ہے۔

دائیں بازو کے ایک تھنک ٹینک سے وابستہ تجزیہ کار ششانت نے کہا کہ ملاقات میں بات چیت کو بیان کرنے کے لیے ’فرینک اور کنسٹرکٹیو‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ انھوں نے کہا جہاں تک ’فرینک‘ یا کھل کا بات کرنے کا تعلق ہے تو لگتا ہے دونوں ’فرینک‘ زیادہ تھے لیکن تعمیری نہیں تھے۔

دوسری طرف پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ مسعود خان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی فضا میں خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات ہو جانا ہی غنیمت ہے۔

مسعود خان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات سے کیا نتیجہ نکلے گا اس کے سامنے آنے میں تو وقت لگے لگا لیکن ملاقات ہو جانا ہی بڑی بات ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کے اپنے تحفظات ہیں اور پاکستان کے اپنے الزامات ہیں جو بڑی سنگین نوعیت کے ہیں۔

مسعود خان کے بقول کبھوشن کی صورت میں پاکستان کے پاس جیتا جاگتا ثبوت موجود ہے کہ بھارت بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کا ایک بڑا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔

انھوں نے کہا ایسی صورت حال میں سفارتی تعلقات کو برقرار رکھنا اور بات چیت کا دورازہ بند نہ کرنا پاکستان کی اعلی ظرفی ہے۔

ششانت سرن نے کلبھوشن کے بارے میں کہا کہ بھارت کا موقف ہے کہ انھیں افغانستان یا ایران سے اغوا کر کے پاکستان لایا گیا اور بھارت کی حکومت اسی لیے کونسلر کی سطح پر اس سے ملاقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔

سیکریٹری خارجہ سطح کی ملاقات کے بارے میں کوئی ایک بات اگر دونوں ملکوں کے لیے باعث اطمنان تھی تو وہ صرف یہ حقیقت کہ کوئی پیش رفت ہو یا نہ ہو بات چیت کا رابط برقرار ہے۔

اسی بارے میں