کیا سائبر کرائم بِل سینیٹ سے پاس ہو سکے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحقیقات کرنے والی ایجنسی یا آفسر شبے کی بنیاد پر چھاپا مار سکتا ہے، ڈیٹا یا سسٹم ضبط کر سکتا ہے یا گرفتار عمل میں آ سکتی ہے

پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی سے تو سائبر کرائم یعنی’ پروینشن آف الیکڑونک کرائمز بل‘ پاس کرا لیا ہے مگر سینیٹ سے اس کی منظوری خطرے میں پڑ گئی ہے۔

سائبر کرائم کی روک تھام کا بِل

سینیٹ میں اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اس بل کی بعض شقیں شہریوں کی اظہارِ رائے کی آزادی سلب کر سکتی ہیں اس لیے وہ اس کی مخالفت کرے گی۔

حکومت نے الیکٹرونک ٹرانزیکشنز آرڈینینس 2002 کو جامع بنانے کے لیے الیکٹرونک جرائم کے انسداد کا بل گزشتہ برس اپریل میں قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا مگر حزب اختلاف اور انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں نے اس بل کو کالا قانون کہتے ہوئے اسے نا منظور کر دیا تھا۔

احتجاجی مظاہروں اور حزب اختلاف کے دباؤ نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ بل میں ترامیم کرئے۔ تاہم اس ہفتے جب سیاسی جماعتوں اور عوام کی توجہ پاناما لیکس کے انکشافات پر تھی اس دوران حکومت نے سائبر کرائم بل کے مسودے کو قومی اسمبلی سے پاس کرا لیا۔

بیشتر سیاسی رہنما اور سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ حکومت نے نئے مسودے میں ان کے تحفظات کو خاطر میں نہیں لایا۔ جس کے بعد یہ بل ایک مرتبہ پھر متنازع بن گیا ہے۔

سماجی کارکن حکومت پر الزام لگا رہے ہیں کہ اس نے جلد بازی میں نہ صرف یہ بل قومی اسمبلی سے پاس کرایا ہے بلکہ بل کے مسودے کی کاپی ملنا بھی کچھ عرصے تک نہ ممکن رہا۔

سائبر کرائم بل کی متنازع شقیں:

بیشتر ترامیم کے بعد اب یہ بل 23 صفوں پر مشتمل ہے۔ بہت سے ڈیجیٹل رائٹس کے وکلا ، سماجی کارکنوں اور بعض سیاستدانوں کی جانب سے متنازع تصور کی جانے والی شقیں مندرجہ ذیل ہیں۔

شق 34 :غیر قانونی آن لائن مواد۔

اس کے تحت پی ٹی اے کے پاس اختیار ہو گا کہ انٹرنیٹ پر شائع ہونے والا کوئی بھی مواد اگر اسے اسلام کی شان، پاکستان کے دفاع، سکیورٹی، خود مختاری، عدالتی نظام یا اخلاقیات کے خلاف لگے اسے فوراً ہٹا دے یا بلاک کر دے۔

شق 30: گرفتاری یا ڈیٹا ضبط کرنا۔

اس کے مطابق تحقیقات کرنے والی ایجنسی یا آفسر شبے کی بنیاد پر چھاپا مار سکتا ہے، ڈیٹا یا سسٹم ضبط کر سکتا ہے یا گرفتاری عمل میں آ سکتی ہے۔ جس کے بعد وہ 24 گھنٹے کے اندر عدالت سے رجوع کرنے کا پابند ہو گا۔

شق 36 : رئیل ٹائم کلیکشن اور معلومات کی ریکارڈینگ ۔

اس کے تحت کوئی بھی تحقیقاتی ایجنسی شبہ کی بنیاد پر عدالت سے انٹرنیٹ ڈیٹا کی ریل ٹائم کلیکشن اور معلومات ریکارڈ کرنے کا اختیار حاصل کر سکتی ہے۔

شق 19: کسی بھی شحص کی عزت کے خلاف معلومات شائع کرنا:

کسی بھی شحص سے متعلق نقصان دہ یا غلط معلومات کی انٹرنیٹ پر اشاعت کے جرم میں دس سال تک کی قید یا ایک کروڑ تک کا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

شق 22: سپمینگ۔

کسی کو تنگ کرنے کے لیے یا مرضی کے بغیر یا کاروبار کے فروغ کے لیے پیغام بھیجنے پر 50 ہزار روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے اور غلطی دہرانے پر دس لاکھ کا جرمانے ہو گا۔

سائبر بل پر تحفظات ہیں کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شق 34 سے متعلق ڈیجیٹل رائٹس کے وکیل یاسر ہمدانی کا کہنا ہے کہ اس میں ابہام پایا جاتا ہے کہ آخر کیا چیز اخلاقیات، مذہب یا سکیورٹی کے خلاف ہو سکتی ہے؟ اس کی تشریح نہیں کی گی۔

ان کے خیال میں حکومت اس شق کے تحت خود کو ہی یعنی اپنی ایگزیکٹیو باڈی، پی ٹی اے کو لامحدود اختیار دے رہی ہے کہ جو مواد اسے غیر قانونی لگے وہ خود ہی اسے بلاک کر دے بجائے اس کے کہ پہلے عدالت میں اس کا فیصلہ کیا جائے اور پھر کارروائی۔

پاکستان کی پولیٹیکل سینسرشپ کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انھیں خدشہ ہے کہ بل میں یہ گنجائش موجود ہے کہ کوئی بھی حکمران حکومت اس کا غلط استعمال کر سکے۔

سماجی کارکن گل بخاری کا کہنا ہے کہ شق 30 یا 36 میں تحقیقاتی ایجنسیز کو اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ کہیں بھی چھاپہ مارے اور ڈیٹا ضبط کر لے۔

یہ اختیارات ایسے وقت میں دیے جا رہے ہیں جب پاکستان میں ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق قوانین موجود ہی نہیں۔ یعنی یہ یقینی نہیں بنایا گیا کہ ضبط کیے جانے والے ڈیٹا کا غلط استمعال نہ ہوں۔

اس لیے پاکستان جیسے ملک میں جہاں اختیارات کا بے جا استعمال معمولی بات ہے وہاں اگر کسی آفسر نے ضبط کیے ہوئے ڈیٹا کا غلط استعمال کیا تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟

ان کے مطابق اس سے شہریوں کے ڈیٹا کی نجی معلومات کی حفاظت مثاتر ہو سکتی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس سلسلے میں حکومت شہریوں کو تحفظ مہیا کرئے۔

شق 19 سے متعلق انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنطیم ’بولو بھی‘ کی رکن فریحہ عزیز کہتی ہیں کہ کسی بھی مشہور شخصیت کی ’میل‘ یا اس کے احستاب کے لیے شائع کی جانے والی ٹوئٹر یا فیس بک پوسٹ اس شق کی زد میں آسکتی ہے جو کہ اظہار رائے کی آزادی پر ایک قدغن ہے۔

سماجی کارکنان اور بعض سیاست دان چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے تحفظات کی روشنی میں بل کا مسودہ تشکیل دے تاکہ جلد از جلد سائبر کرائم بل کا قانون نافذ ہو سکے۔

اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آئی ٹی کی وزارت کی قائمہ کمیٹی کے رکن اویس لغاری کا کہنا تھا کہ یہ بل تمام شراکت داروں اور سیاسی رہنماؤں سے تفصیلی مشاورت کے بعد تشکیل دیا گیا ہے۔ ان کے بقول یہ بل وقت کی ضرورت ہے اس لیے معاشرے کے تمام حلقوں کو چاہیے کہ وہ اس کے نفاذ کے لیے مل کر کام کریں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ملک میں انتہا پسندی کے خاتمے، آن لائن فراڈ اور فرقہ ورانہ نفرت کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے یہ بل اہم کردار ادا کریے گا۔

اسی بارے میں