جی ڈی پی کا دو اعشاریہ سات فیصد سے بھی کم تعلیم پر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پنجاب پہلے نمبر ہے جہاں شرح خواندگی 60 فیصد ہے

پاکستان اپنی مجموعی قومی پیداوار میں سے دو اعشایہ سات فیصد سے بھی کم تعلیم پر خرچ کرتا ہے اور یہ 26 غریب ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔

کیا ہمارا سکول بند ہے؟’20 فیصد پاکستانی بچے تاحال تعلیم سے دور‘

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق دارالحکومت میں تعلیم کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار میں یہ اعداد و شمار پیش کیے گئے کہ ملک میں خواندگی کی شرح 58 فیصد ہے۔ خواتین میں یہ شرح 43 فیصد ہے جبکہ قبائلی علاقوں میں تین فیصد سے کم ایسی خواتین ہیں جو پڑھنا جانتی ہیں۔

صوبائی اعتبار سے صوبہ پنجاب پہلے نمبر ہے جہاں شرح خواندگی 60 فیصد ہے۔

صوبہ بلوچستان کی 41 فیصد آبادی خواندہ شمار ہوتی ہے۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے میں تعلیمی کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے بہت سے مسائل ہیںجن میں گھوسٹ سکول، بیت الخلا کی عدم دستیابی اور کمرہ جماعت نہ ہونا شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تعلیم پر سالانہ چھ کھرب روپے رچ کیے جاتے ہیں

وفاقی حکومت ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو مزید فنڈز فراہم کر رہی ہے اور سرکاری سکولوں کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے۔ لیکن اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

باوجود اس کے کہ سنہ 1973 کے قانون کی دفعہ 25 میں درج ہے کہ بچوں کو تعلیم کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے تاہم پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہیں۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں پاکستان کے وفاقی وزیر برائے تعلیم بلیغ الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی مسائل کا حل کرے اور وفاقی سطح پر سرکاری سکولوں کی بہتری کے لیے کی جانے والی کوششیں حکومت کے غزم کی عکاسی کرتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ تعلیم پر سالانہ چھ کھرب روپے خرچ کیے جاتے ہیں جن میں سے 90 فیصد حکومت کی جانب سے اور باقی ماندہ نجی شعبوں اور ڈونرز کی جانب سے ملتے ہیں۔

اسی بارے میں