ایف سولہ طیاروں کی خریداری ہمیشہ دشوار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے علاوہ ترکی سمیت کئی دوسرے ملکوں کے پاس ایف سولہ طیارے ہیں

اسرائیل کے علاوہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو ایف سولہ جنگی طیاروں کو فضائی جنگ میں استعمال کرنے کا تجربہ رکھتا ہے لیکن امریکہ سے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی خریداری پاکستان کے لیے شروع ہی سے ہی بہت مشکل اور دشوار طلب رہی ہے۔

٭ایف 16 کا سودا کھٹائی میں

٭پاکستان امریکہ دفاعی مذاکرات، ایف سولہ طیاروں کا مطالبہ

افغانستان پر سویت یونین کے حملے کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ نے پاکستان کو ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی فروخت کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ سنہ 1983 میں پاکستان فضائیہ میں دو ایف سولہ لڑاکا طیارے شامل کیےگئے تھے۔

اس کے بعد سنہ 1987 تک پاکستان کی فضائیہ کو 40 ایف سولہ طیارے مل گئے تھے۔لیکن اس دوران مختلف حادثات اور خرابیوں کی وجہ سے آٹھ ایف سولہ طیارہ ناکارہ ہو گئے تھے۔

دونوں ملکوں میں ایف سولہ طیاروں کے معاہدے کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر 111 طیارے فراہم کیے جانے تھے۔

سنہ 1987 میں گیارہ سالہ فوجی آمریت کے بعد پاکستان میں سیاسی تبدیلی رونما ہو رہی تھی اور ملک جمہوری دور میں داخل ہو رہا تھا۔ دوسری طرف افغانستان سے سویت یونین اپنی فوجیں نکال رہا تھا۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے خطے میں امریکہ کی دلچسپی کم ہو رہی تھی۔

پاکستان کی فضائیہ مزید اکہتر ایف سولہ طیارے وصول کرنے کی امید میں تھی۔ ان طیاروں کے لیے حکومت پاکستان نے 65 کروڑ ڈالر کے قریب رقم ادا کر دی تھی اور باقی ماندہ 70 طیاروں میں سے لاک ہیڈ مارٹن نے اٹھائیس طیارے بنا بھی لیے تھے۔ لیکن امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری پروگرام کی وجہ سے پریسلر ترمیم کے تحت ان طیاروں کی ترسل پر پابندی عائد کر دی۔

اس کے بعد اگلی ایک پوری دہائی پاکستان کو نہ اپنی رقم ہی واپس دی گئی اور نہ ہی امریکہ طیارے دینے پر رضامند ہوا۔ امریکہ میں ہینگروں میں کھڑے طیاروں کی کسی دوسرے ملک کو فروخت کرنے کے لیے کئی ایک منصوبے بنائے گئے لیکن کوئی ملک ان طیاروں کو لینے کے لیے تیار نہ ہوا۔

امریکہ نے پاکستان کو اس رقم جو طیاروں کے حصول کے لیے دی گئی تھی کے بدلےگندم لینے کی پیش کش کر دی۔ دونوں ملکوں کے درمیان تنازع اس نہج تک پہنچا کے صدر کلنٹن کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ پاکستان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ لیکن رقم پھر بھی پاکستان کو نہ مل سکی۔

سنہ 1998 کے آخری میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کو 32 کروڑ ڈالر کیش کی صورت ادا کرے گا اور باقی 14 کروڑ ڈالر دوسری مدوں میں پورے کیے جائیں گے جن میں چھ کروڈ ڈالر مالیت کی گندم بھی شامل کی جائے گی جس کی ترسیل اکتوبر میں شروع ہوئی۔ امریکہ اور پاکستان میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ 8 کروڑ ڈالر کے بارے میں بعد میں کوئی صورت نکالی جائے گی۔

گیارہ ستمبر سنہ 2001 میں نیویارک اور واشنگٹن میں دہشت گردی کے حملوں کے بعد پاکستان ایک مرتبہ پھر امریکہ کے لیے اہمیت اختیار کر گیا۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر جنگ شروع کرنے کا اعلان ہوا اور القاعدہ اور اس کے سربراہ کے خلاف امریکی فوج بھرپور طریقے سے میدان میں اتر آئی۔

امریکی حکومت نے مارچ سنہ 2005 میں اعلان کیا کہ اس نے ایف سولہ خریدنے کی پاکستان درخواست منظور کر لی ہے۔ پاکستان نے ابتدائی طور پر 24 ایف سولہ طیارے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ اس بارے میں دونوں ملکوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ستمبر 2006 میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت 18 ایف سولہ طیارے پاکستان دیے جانے تھے اور مزید 18 بعد فراہم کیے جانے کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو پہلے مرحلے میں 12 ایف سولہ طیارے حاصل ہوئے اور اس کے بعد 12 استعمال شدہ ایف سولہ طیارے اردن سے پاکستان کو ملے۔

افغان جنگ کےدوران جب امریکہ پاکستان کے ذریعے ’افغان مجاہدین‘ کی پوری شد و مد سے مدد کر رہا تھا افغان سرحد پر پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں شروع ہوگئیں۔ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں کرنے والے روسی ساخت کے مگ اور ایس ایو طیاروں کا سامنا پاکستان فضائیہ کے ایف سولہ طیاروں سے ہونے لگا۔

پاکستان کی فضائیہ کے ایف سولہ طیاروں نے سنہ 1986 سے 1988 کے درمیان پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے آٹھ طیاروں کو مار گرایا۔ اس دوران ایک ایف سولہ طیارہ ’فرینڈی فائر‘ یا پاکستان فضائیہ کے ایک دوسرے ایف سولہ طیارے سے فائر کیے گئے سائڈ وانڈر کا نشانہ بن گیا۔

پاکستان کی فضائیہ نے اپنے فضائی بیڑے میں شامل ایف سولہ طیاروں کو اپنے فنی ماہرین کی مدد سے فرانسیسی ساخت کے ریڈار لگا کر ان کی کارکردگی کو کہیں بہتر کر لیا ہے۔ ایف سولہ طیارے جوہری ہتھیار بھی لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں