تبسم عدنان کے لیے نیلسن مینڈیلا ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption تبسم عدنان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے ہے اور وہ علاقائی سطح پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن اور خواتین جرگے کی بانی تبسم عدنان کو نیلسن مینڈیلا، گارسا مشیل انوویشن ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔

انھیں یہ ایوارڈ جمعرات کو لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں منعقدہ انٹرنیشنل سول سوسائٹی ویک کے دوران دیا گیا۔

٭ سوات کی حدیقہ بشیر کو انسانی حقوق کا ایوارڈ

٭ سوات کی تبسم کے لیے ’جرات‘ کا عالمی ایوارڈ

٭ سوات میں صرف خواتین پر مشتمل جرگہ

تبسم عدنان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے ہے اور وہ علاقائی سطح پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔

ان کی شادی کم عمری میں صرف 13 برس کی عمر میں کر دی گئی تھی لیکن 20 سال شوہر کی جانب سے ذہنی اور جسمانی تشدد برداشت کرنے کی بعد انھوں نے اپنے شوہر سے خلع لے لی۔

شوہر سے علیحدگی کے بعد بغیر سرمائے اور کسی کی مدد کے تبسم عدنان نے’خویندو جرگہ‘ یعنی ’بہنوں کی کونسل‘ کے نام سے اپنی ایک این جی او بنائی۔

یہ وادیِ سوات میں وہ پہلا خواتین کا جرگہ تھا جو ہفتہ وار بنیادوں پر خواتین کے مسائل کو دیکھتا تھا۔

ان مسائل میں غیرت کے نام پر قتل، خواتین پر تیزاب کے حملے اور ’سوارا‘ یعنی کسی جرم یا کسی معاہدے کے بدلے میں خواتین کو دیے جانے کی رسم وغیرہ شامل ہیں۔

خویندو جرگہ مقامی خواتین میں آگاہی پیدا کرنے کی مہم بھی چلاتا ہے۔

اس میں خواتین کے تحفظ، ووٹ دینے کے لیے انھیں متحرک کرنا اور تشدد سے متاثرہ خواتین کو مفت قانونی مدد فراہم کرنا شامل ہے۔

اسی بارے میں