’سٹنگ آپریشن‘ کرنے والا صحافی گرفتار، وزیر داخلہ کا اظہار تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ ARY
Image caption آر وائی نیوز چینل نے اس پورے واقعے کو ’سٹنگ آپریشن‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’سرِ عام‘ پروگرام کے اینکر پرسن اقرار الحسن نے سندھ اسمبلی کی سکیورٹی کا پول کھول دیا ہے

پاکستان کے صوبۂ سندھ کی اسمبلی میں ایک مسلح شخص کے ساتھ داخل ہونے کے الزام میں اینکر پرسن اقرار الحسن کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ نیوز چینل اے آر وائی نے اس کو ’سٹنگ آپریشن‘ کا نام دیا ہے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ کی جانب سے اقرارالحسن کی گرفتاری پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ’دنیا بھر میں صحافی سٹنگ آپریشنزکرتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایسے سٹنگ آپریشن پر ناراض ہونے کی بجائے ان سے سبق اور رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔‘

وزیر داخلہ نے سیکریٹری داخلہ کو آئی جی پولیس سندھ سے بات کرکے معاملہ مثبت انداز میں سلجھانے کی ہدایت کی ہے۔

جمعے کو سندھ اسمبلی میں جمعہ کو دوران اجلاس مہمانوں کی گیلری سے اینکر پرسن اقرار الحسن نے کھڑے ہوکر سپیکر آغا سراج درانی کی توجہ مبذول کرائی کہ ایوان میں ایک مسلح شخص داخل ہوگیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن خواجہ اظہار الحسن نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔

جب سپیکر نے سوال کیا کہ وہ شخص کہاں ہے تو اچانک اقرار الحسن کے ساتھ موجود ایک شخص نے قمیض کے نیچے لگا پستول نکال کر دکھایا جسے اقرار الحسن نے اسمبلی کے عملے کے حوالے کر دیا۔

یہ پستول سپیکر کو ڈائس پر پہنچایاگیا، سپیکر نے پستول کا میگزین کھول کر دیکھا تو اس میں گولیاں نہیں تھیں۔

خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ اگر ایک شخص اتنی آسانی سے پستول لے کر اندر آ گیا ہے اس لیے اس کے خلاف کوئی قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ اسمبلی کے اراکین کو کالعدم تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں مل چکی ہیں۔

صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے ایوان میں اعلان کیا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہوں گی لیکن اس سے پہلے اس شخص کو گرفتار کیا جائے گا جو بغیر اجازت کے اسلحہ لےکر ایوان میں آیا ہے اور ان کے ساتھ جو بھی ملے ہوئے ہیں انھیں بھی گرفتار کیا جائے گا۔

سپیکر نے انھیں ہدایت کی کہ اس حوالے سے رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔

سپیکر کی اجازت سے اینکر پرسن اقرار الحسن اور ان کے ساتھ موجود شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔ سپیکر نے سپیشل برانچ کے تعینات تمام اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔

صوبائی وزیر سہیل انور سیال نے ایوان کو بتایا کہ صحافی ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے اور چیکنگ کرنے پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں ان کے ساتھ ہے، اب اس مشتبہ شخص کی اگر کسی پریس والے نے بھی مدد کی ہے تو اس کے خلاف بھی مقدمہ درج ہوگا۔

رکن صوبائی اسمبلی کلثوم چانڈیو نے ایوان کو بتایا کہ جب وہ آ رہی تھی تو انھوں نے خود دیکھا تھا کہ سکیورٹی والوں نے اس مسلح شخص کو روکا لیکن اینکر پرسن اقرار الحسن نے کہا کہ یہ اس کے ساتھ ہے اور وہ انھیں زبردستی اپنے ساتھ لے آئے۔

دوسری جانب اے آر وائی نیوز چینل نے اس پورے واقعے کو ’سٹنگ آپریشن‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’سرِ عام‘ پروگرام کے اینکر پرسن اقرار الحسن نے سندھ اسمبلی کی سکیورٹی کا پول کھول دیا ہے۔

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ثمر علی خان کا کہنا تھا کہ وہ ہر روز آتے جاتے ہیں۔ اسمبلی سٹاف خود کہتا ہے کہ اتنے لوگ آ جا رہے ہیں کہ ان پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، وہ اصرار کرتے ہیں کہ ان کا بیگ چیک کیا جائے مگر اسمبلی سٹاف کہتا ہے کہ اگر کسی کا بیگ چیک کیا جائے لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔

سپیکر نے انھیں کہا کہ ہر کوئی آپ جیسا نہیں ہے۔ انھوں نے گذارش کی کہ جب تک کسی کے اسمبلی میں آنے کا پاس نہ ہو اس کو اندر آنے کی اجازت نہ دی جائے۔

سہیل انور سیال نے میڈیا کو بتایا کہ اقرار الحسن اور ان کے ساتھ موجود شخص کی نقل و حرکت کی تمام سی سی ٹی وے کیمرے کی رکارڈنگ حاصل کی جا رہی ہیں۔

اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی جنوبی منیر شیخ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

اسی بارے میں