’ہمیں کس سے آزادی چاہیے‘

پاکستانی صحافت کو درپیش چیلنجز میں ایک بڑا چیلنج سنجیدہ صحافت سے زیادہ سنسنی خیز صحافت اور دوسرا نگران ریاستی اداروں کی جانب سے ’میڈیا ایڈوائس‘ کا بڑھتا رُجحان ہے۔

آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر اسلام آباد میں صحافیوں کی ریلی نے کئی دہائیوں کی جہدوجہد سے حاصل ہونے والی آزادئ صحافت کے دفاع کا مطالبہ کیا۔ لیکن ماہرین کو تشویش ہے ایسے حالیہ رُحجانات سے ہے جو ملک میں آزادئ اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر شکیل انجم کہتے ہیں کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہمیں آزادی حاصل کس سے حاصل کرنی ہے۔

’یہ ایک عام صحافی سمجھ سکتا ہے کہ ہمیں کس حد تک آزادی چاہیے، آپ لوگوں کو بھی پتہ ہے کہ ہمیں کس حد تک آزادی چاہیے، لیکن اس بات کا تعین کبھی بھی نہیں ہوا کہ ہمیں آزادی کس سے چاہیے، کیا ہمیں آزادی دہشت گردوں سے چاہیے، مولویوں سے چاہیے، ایجنسیوں سے چاہیے، انتہا پسندوں سے چاہیے یا ہمارے مالکان سے چاہیے؟‘

پاکستان میں آزادئ صحافت کی راہ میں حائل مشکلات میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کی طرف سے ادارتی ہدایات جاری کرنے کا جارحانہ نظام، سیاسی جماعت کے رہنما کی تقاریر اور انٹرویوز پر پابندی کا قانونی قدم، معروف صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کے تعین میں عدالتی کمیشن کی ناکامی، قومی اسمبلی میں سائبر کرائم بل کی منظوری، اور فیچر فلم ’مالک‘ پر پابندی شامل ہیں۔

اس ریلی میں شریک سینیئر صحافی فرح ناز نے چند اداروں کی جانب اشارہ کیا جو صحافتی اداروں کو گائڈ کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب آپ کو باقاعدہ فیڈ کیا جاتا ہے بتایا جاتا ہے کہ آپ نے یہ خبر اس طرح نہیں چلانی ایسے کرنی ہے۔ کئی ایسے ادارے ہیں ہمارے ملک کے اندر جن کا نام اگر آپ لیں گے تو شاید پھر اگلی دفعہ میں بھی آپ کو یہاں دکھائی نہیں دوں گی۔‘

لیکن وہیں موجود پاکستانی ذرائع ابلاغ پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار عدنان رحمت نے اپنی گفتگو میں میڈیا کی ساکھ کے مسئلے کی جانب نشاندہی کی۔

وہ کہتے ہیں کہ میڈیا میں اخلاقیات کا ایک سوال ابھر رہا ہے لیکن اس کا حل صرف سیلف ریگولیشن میں ہے۔

میڈیا کی آزادی پر نظر رکھنے والی بین القوامی تنظیم آر ایس ایف نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں آزادئ صحافت میں بہتری کی نوید سنائی ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ سیلف سینسرشپ میں پھر بھی اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں آزادئ اظہار رائے کے تناظر میں اچھی پیشرفت بھی ہوئی ہے اور تین سال بعد یوٹیوب پر سے پابندی اُٹھانا، ایڈیٹرزفار سیفٹی کا قیام، ضلع لاڑکانہ میں صحافی شان ڈاہر کے قتل کی ازسرنو تحقیق کا فیصلہ اور خیبر پختونخوا کے صحافی ایوب خٹک کے قاتل کو مجرم ٹھہرایا جانا شامل ہے۔