جئےسندھ قومی محاذ کے لاپتہ رہنما کیھر انصاری بازیاب

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption کیھر انصاری نے بتایا کہ انھیں دس روز قبل نوشہرو فیروز کے شہر پڈ عیدن سے حراست میں لیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ کی قوم پرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ کے لاپتہ وائس چیئرمین کیھر انصاری بازیاب ہوگئے ہیں جبکہ ان کی رہائی کے لیے احتجاج میں فائرنگ سے ایک زخمی کارکن زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگیا۔

کیھر انصاری نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں دس روز قبل نوشہرو فیروز کے شہر پڈ عیدن سے حراست میں لیا گیا تھا، جہاں وہ اپنے دوست کے پاس گئے ہوئے تھے۔’سر پر کپڑا ڈال کر ایک کار میں سوار کیاگیا، جس کے بعد چار پانچ گھنٹے گاڑی چلتی رہی اور نامعلوم مقام پر پہنچا دیا گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں بند تھے، وہاں ہی کھانا پینا فراہم کیا جاتا تھا۔ کیھر انصاری نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ انھیں ڈاکوؤں نے اغوا کیا تھا تاہم انھوں نے تحقیقات کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے انکار کیا۔’وہ ڈاکو نہیں تھے اگر ڈاکو ہوتے تو تاوان کا مطالبہ یا بات کرتے، انھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔‘

کیھر انصاری کے مطابق نوشہرو فیروز میں فائرنگ میں ساتھی کارکن کی ہلاکت کے بعد انھیں جلد بازی میں منہ پر کپڑا ڈال کر جامشورو کے قریب چھوڑ دیا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد میں بھی گلن خان عرف کیھر انصاری کی گمشدگی کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر عدالت نے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی نوشہرو فیروز کو نوٹس جاری کیے تھے۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 23 اپریل کو کیھر انصاری نوشہرو فیروز جانے کے لیے نکلے تھے اس کے بعد سے لاپتہ ہیں، انھیں شبہ ہے کہ انھیں گرفتار کرکے نامعوم مقام پر رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ کیھر انصاری کی گرفتاری کے خلاف دو روز قبل نوشہر فیروز میں جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین صنعان قریشی کی سربراہی میں دھرنا دیا گیا تھا، پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران رینجرز اور سی آئی اے پولیس کی گاڑیاں گزرنے پر مشتعل افراد نے پتھراؤ کیا اور اہلکاروں کی فائرنگ میں چھ کارکن زخمی ہوگئے۔

Image caption ہلاک ہونے والے کارکن ارشاد کی تدفین شام کو خیرپور کے علاقے رسول آباد میں کی گئی

نوشہرو فیروز تھانے پر جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین صنعان قریشی سمیت پانچ سو افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس کے خلاف منگل کو سندھ کے کئی شہروں میں ہڑتال بھی کی گئی تھی۔

نوشہرو فیروز میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے ارشاد زخموں کی تاب نہ لاکر بدھ کی صبح جناح ہپستال میں ہلاک ہوگئے، ان کی تدفین شام کو خیرپور کے علاقے رسول آباد میں کی گئی ہے۔

دریں اثنا انسانی حقوق کمیشن نے کیھر انصاری کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ان کی بازیابی اس وقت ہوئی جب انھیں تشویش ناک حالت میں جام شورو کے قریب گاڑی میں سے پھینکا گیا۔

انسانی حقوق کمیشن نے ارشاد چنا کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے جو دیگر چھ کارکنوں سمیت قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی فائرنگ میں زخمی ہوگئے تھے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ کیھر انصاری کی گمشدگی کا معاملہ یہاں پر ختم نہیں ہونا چاہیں بلکہ جو بھی اس میں ملوث ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

اسی بارے میں