’وزیر اعظم پارلیمان میں جواب دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے وزیر اعظم نواز شریف سے پارلیمان میں آ کر اپنے خلاف لگنے والے الزامات کا جواب دینے کا ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا ہے۔

٭ اپوزیشن کا ضابط کار غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہے

حکومت کی طرف سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں بنائے جانے والے ضابطہ کار کو رد کیے جانے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے ٹی او آرز میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ حکومت انھیں یکطرفہ طور پر رد کردے۔

انھوں نے کہا کہ بعض اوقات اخلاقیات کے تقاضے قانون کے تقاضوں سے زیادہ سخت ہوتے ہیں اور موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم خود اپنے آپ کو احتساب کےلیے پیش کر دیں۔

سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ اگر کوئی چیز اخلاقی طور پر غلط ہے تو پھر وہ سیاسی طور پر بھی صحیح نہیں ہو سکتی ۔ اس لیے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سیاسی زور آزمائی اور عددی برتری سے ہٹ کر پانامہ لیکس کا مسئلہ حل کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اخلاقیات کو ترجیع دیں اور قانونی اور سیاسی موشگافیوں سے بالاتر ہو کر احتساب کا آغاز اپنی ذات سے شروع کریں۔

سید خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف قوم کو بتائیں کہ پانامہ لیکس میں ان کے خاندان کے ملوث ہونے کی نوعیت اور حقیقت کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کے سربراہ کے طور پر ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کے سامنے اس سارے معاملے کا پس منظر پیش کریں۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بال اب وزیر اعظم کی کورٹ میں ہے اور اب انھیں جذباتی تقریروں کی بجائے معاملات کے حقائق کی طرف آنا چاہیے اور اس معاملے پر بلا تاخیر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ کیوں کہ اس معاملہ کو وقت کی دھول میں نہیں دبایا جا سکتا اس لیے اس کو منطقی انجام تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

پاناما پیپرز کے سامنے آنے کے بعد سے پاکستان میں ایک سیاسی بحران شروع ہو گیا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ حکومت بھی تحقیقات کرانے کو تیار ہے لیکن تنازع ان تحقیقات کے طریقہ کار پر ہے۔

اسی بارے میں