آرمی چیف کے حکم پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی مطمئن

تصویر کے کاپی رائٹ afp

صوبائی مشیر مولا بخش چانڈیو نے کراچی میں امن و اماں قائم کرنے میں رینجرز کے کردار کو سرہاتے ہوئے کہا ہے کہ ملزماں اور زیر حراست افراد سے تفتیش کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے۔

٭متحدہ کے کارکن کی ہلاکت پر انکوائری کا حکم، اہلکار معطل

بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ دوران تفتیش ملزماں کی زندگیوں کا خیال رکھنا انتہائی اہم ہے۔

انھوں نے کہا کہ کونسی سے جمہوری اور مہذب حکومت ہوگی جو ایسے واقعات سے پریشان نہ ہو۔

یاد رہے کہ دو دن قبل کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار کے رابط کار آفتاب احمد تفتیش کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ رینجرز کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ حرکت قبل بند ہو جانے سے ہلاک ہوئے جبکہ ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی ہلاکت تشدد کے باعث ہوئی۔

رینجرز کو اختیارات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس واقع کی مذمت کی ہے اور وہ فوج کے سربراہ کی طرف سے اس واقع کی تحقیقات کرانے کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔

سندھ میں رینجرز کو اختیارات کے حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع صوبائی اسمبلی اور حزب مخالف کے ارکان کو اعتماد میں لے کر کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے رینجرز کی سرگرمیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا بلکہ وہ دیگر وفاقی اداروں کی طرف سے صوبائی حکومت کے معاملات میں مداخلت پر احتجاج اور تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے بعض ادارے صوبائی حکومت کی عملداری اور حاکمیت کا خیال رکھے بغیر صوبائی حکومت کے اداروں میں مداخلت کر رہے تھے۔

رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے لیے فوج کی طرف سے دباؤ کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ بات فوج کے دباؤ کی نہیں بلکہ ضرورت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حالات ایسے ہیں کہ رینجرز کی ضرورت ہے اور پولیس اور رینجرز ہی کی مشترکہ کارروائیوں سے شہر میں امن و امان بحال کرنے میں بڑی حد تک مدد ملی ہے۔

دوسری طرف لندن میں ایم کیو ایم کے ترجمان مصطفیٰ عزیز آبادی نے کہا فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی طرف سے آفتاب حسین کی ہلاکت کی تحقیقات کا خیرمقدم کیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ جیسا کہ جنرل راحیل شریف کے بیان میں کہا گیا اس واقع کی آزادانہ اور غیر جانبدار طریقے کے تحقیقات کرائی جائیں گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ جو اہلکار اس واقع میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں