سکھ کی پگڑی کی’توہین‘، پانچ ملزمان کی ضمانت منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر چیچہ وطنی کے سول جج طاہر منظور نے سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے مہندر پال سنگھ کی جانب سے توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ افراد کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

واضع رہے کہ منگل کو مہندر پال سنگھ نے مقدمہ درج کرایا تھا کہ فیصل آباد سے ملتان کے سفر کے دوران جس بس پر وہ سفر کر رہے تھے اس کی مالک ٹرانسپورٹ کمپنی کے ملازمین نے ان سے بدسلوکی کی اور اس دوران ان کی پگڑی بھی زمین پر گرا دی گئی۔

٭ سکھ کی پگڑی کی ’توہین‘ پر چھ مسلمانوں پر مقدمہ

کیس کے تفتیشی افسر عبد الستار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 148، 149، 295 اور 506 کے تحت گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان کو رہا کر دیا گیا ہے، جن میں بس ٹرمینل کے منیجر بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب کیس کے مرکزی ملزم اور بس ٹرمینل کے مالک، حاجی ریاست کو پولیس اب تک گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mahinder Pall Singh Facebook
Image caption مہندرپال سنگھ کے مطابق وہ اپنے وکیل سے مشاورت کے بعد ایف آئی آر میں دفعہ 295 اے شامل کرنے کی درخواست دیں گے

مہندر پال سنگھ کا کہنا تھا کہ پولیس نے ملزمان کے خلاف قابل ضمانت اور عبادت گاہ کی بے حرمتی کی دفعات کے تحت شکایت درج کی، لیکن وہ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہری ہیں جبکہ حملہ آوروں نے ان کی مذہبی علامتوں کی تذلیل کی، اس لیے پولیس کو ناقابل ضمانت دفعہ 295 اے شامل کرنی چاہیے تھی۔

مہندرپال سنگھ کے مطابق وہ اپنے وکیل سے مشاورت کے بعد ایف آئی آر میں دفعہ 295 اے شامل کرنے کی درخواست دیں گے اور ضرورت پڑنے پر عدالت بھی جائیں گے ـ

واضع رہے کہ منگل کو مہندر پال نے یہ بھی کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ مقدمے کو ملتان منتقل کروایا جا سکے کیونکہ چیچہ وطنی میں سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے اس کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں