لاہور: کم عمر لڑکی کے ریپ کے الزام میں ڈی ایس پی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ گرفتار ڈی ایس پی فی الحال کسی تھانے میں تعینات نہیں تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک کم عمر لڑکی کے مبینہ ریپ کے الزام میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عمران بابر جمیل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ضلعی عدالت نے ڈی ایس پی عمران بابر کو 14 روزہ ریمانڈ پر منتقل کر دیا ہے۔

مبینہ طور پر ریپ کا شکار بننے والی لڑکی کی شکایت پر ڈی ایس پی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تفتیشی پولیس اہلکار اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس عمارہ اطہر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد عمران بابر کو گرفتار کر کے کاہنہ پولیس سٹیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ لڑکی کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اے ایس پی عمارہ اطہر نے کہا کہ مبینہ طور پر ریپ کا شکار بننے والی لڑکی منگل کے روز گھر سے لاپتہ ہوئی تھی۔ گذشتہ روز ڈی ایس پی عمران بابر کے ہمراہ واپس آنے کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے عمران بابر کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔

عمارہ اطہر نے بتایا کہ لڑکی اور ملزم دونوں کے کپڑے فورینسک لیب میں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھجوائے گئے ہیں، ہسپتال میں طبی معائنے بھی کرا لیے گئے ہیں اور تمام نتائج جلد سامنے آ جائیں گے۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ گرفتار ڈی ایس پی فی الحال کسی تھانے میں تعینات نہیں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران بابر جمیل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان پر سیاسی مقاصد کے لیے غلط الزام لگایا جا رہا ہے

دوسری جانب مبینہ طور پر ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی کے والدین کا کہنا تھا کہ عمران بابر جمیل نے نہ صرف ان کی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اسے سنگین نتائج کی بھی دھمکیاں دیں۔

متاثرہ لڑکی کی والدہ کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ڈی ایس پی نے رات گئے بچی کو گھر سے اغوا کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا اور جب بچی کے والد نے اسے بچانے کی کوشش کی تو ڈی ایس پی نے انھیں بھی مارا۔

عمران بابر جمیل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان پر سیاسی مقاصد کے لیے غلط الزام لگایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا: ’مجھے اعلیٰ حکام کی جانب سے گذشتہ کئی سالوں سے پریشان کیا جا رہا ہے، مجھے بار بار ایک جگہ سے دوسری جگہ تعینات کیا گیا، جبکہ میں جہاں بھی اپنے فرائض انجام دینے کی کوشش کرتا، مجھے ہٹا دیا جاتا۔‘

عمران بابر کے مطابق وہ لڑکی کی کال پر کہ اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کی مدد کی کوشش کر رہے تھے۔

اسی بارے میں