سورن سنگھ کے قتل میں ملوث دو ملزمان کا اقبالِ جرم

تصویر کے کاپی رائٹ epa

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اقلیتی رکن اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اقلیتی امور سردار سورن سنگھ کے قتل میں ملوث دو ملزمان نے مقامی مجسٹریٹ کے سامنے اقبالِ جرم کر لیا ہے۔

صحافی انور شاہ کے مطابق جمعرات کو مرکزی ملزم بلدیو کمار سمیت چھ ملزمان کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تو ملزم بہروز اور شانگلہ کے تحصیل نائب ناظم عالم خان نے اقبال جرم کرتے ہوئے قتل کے محرکات سے پردہ اٹھایا۔

*’سورن سنگھ کے قتل کی وجہ سیاسی رنجش تھی‘

* سورن سنگھ کی آخری رسومات ادا، مسلمان بھی شریک

تاہم بلدیو کمار سمیت باقی چار ملزمان نے جرم کا اقرار نہیں کیا۔

بونیر کے ضلعی پولیس افسر خالد ہمدانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان تمام ملزمان کو دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیاگیا تھا جس کے بعد جمعرات کو ان تمام ملزمان کو بونیر کے مقامی عدالت میں پیش کیاگیا جن میں دو ملزمان نے رضاکارانہ طور پر اقبال جرم کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

یاد رہے کہ چند دن قبل سردار سورن سنگھ کو بونیر کے علاقے پیربابا میں گولیاں مار کر ہلاک کیاگیا تھا جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا تھا

ہلاک ہونے والے سردار سورن سنگھ پانچ سال قبل پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگئے تھے۔

2013 کے عام انتخابات میں وہ اقلیتوں کے لیے مختص نشست پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جس کے بعد انھیں اقلیتی امور کے حوالے سے وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سرادر سورن سنگھ کے قتل کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان قبول کی تھی تاہم پولیس کے مطابق سورن سنگھ کے قتل کی وجہ سیاسی رنجش تھی اور تحریکِ طالبان کی جانب سے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں۔

حکام کے مطابق سورن سنگھ کو اس علاقے کے مقامی اقلیتی سیاستدان بلدیو کمار کی ایما پر ہلاک کیا گیا کیونکہ بلدیو کمار خود الیکشن لڑنا چاہتے تھے اور ٹکٹ نہ ملنے پر ان کا سورن سنگھ سے تنازع تھا۔

اسی بارے میں