طالبہ کو جلانے والوں کا ٹرائل دہشتگردی قوانین کےتحت

پاکستان کی پولیس کا کہنا ہے کہ صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں ایک ہفتہ قبل جرگے کے حکم پر طالبہ کے قتل کے مقدمے میں گرفتار 13 ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

واضح رہے کہ مکول نامی گاؤں سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ عنبرین ریاست کی جلی ہوئی لاش ایبٹ آباد سے ملی تھی۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ واقعہ 29 اپریل کو پیش آیا تھا۔

* ’جب آگ لگائی گئی تو شاید وہ زندہ تھی‘

* ایبٹ آباد: ’طالبہ کو جرگے کے حکم پر قتل کیا گیا تھا‘

٭ طالبہ کی ہلاکت کے کیس میں 25 مشتبہ افراد گرفتار

پولیس اہلکار محمد طاہر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ گرفتار ملزمان کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کی تحویل میں ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مکول نامی گاؤں سے تعلق رکھنے والی عنبرین پر اپنی سہیلی کے مبینہ فرار میں مدد دینے کا الزام تھا اور اسے مقامی جرگے کے حکم پر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل ایبٹ آباد کے ضلعی پولیس افسر خرم رشید نے جمعرات کو ایک میڈیا کانفرنس میں بتایا کہ اس واقعے میں ملوث 16 میں سے 14 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دو کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انھوں نے بتایا تھا کہ ملزمان میں لڑکی کی والدہ شمیم بی بی اور علاقے کا ناظم پرویز بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انھیں ’سی ٹی ڈی‘ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ضلعی پولیس افسر کے مطابق عنبرین گاؤں سے کچھ عرصہ قبل فرار ہونے والی صائمہ نامی لڑکی کی سہیلی اور رازدار تھی۔

ان کے مطابق صائمہ کے فرار کے بعد علاقہ کی ویلج کونسل ناظم پرویز نے جرگہ منعقد کیا جس میں فرار میں مدد دینے والے ایک مفرور شخص صدیق کی گاڑی کو جلانے اور عنبرین کو ہلاک کرنے کا فیصلہ دیاگیا۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو فوری طورپر گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

صوبائی حکومت کے ترجمان مشتاق غنی نے بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے انھیں حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا تھا۔

اسی بارے میں