وزیر اعظم کی مسلسل غیر حاضری، پارلیمان میں احتجاج واک آؤٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینیٹ میں حزب اختلاف نے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے کہا ہے کہ جب تک وزیراعظم نواز شریف ایوان میں آ کر براہ راست اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی وضاحت نہیں کرتے اس وقت وہ بھی ایوان میں نہیں آئیں گے۔

اس کے علاوہ حزب اختلاف نے سینیٹ سے وزیراعظم کی مسلسل غیر حاضری کے خلاف حزب اختلاف نے کارروائی کے دوران علامتی واک آؤٹ کیا اور اُن کے ایوان میں حاضر ہونے تک روزانہ واک آؤٹ کرنے کا عزم کیا۔

پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اخِتلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پاناما لیکس سے متعلق جب تک وزیراعظم ایوان میں آ کر وضاحت نہیں کرتے اس وقت تک حزب اختلاف کے ارکان ایوان میں نہیں آئیں گے اور اس کے بعد وہ حزب اخِتلاف کی جماعتوں کے ساتھ ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

٭ ’وزیر اعظم نہیں آتے تو سینیٹ سے روز واک آؤٹ ہو گا‘

٭ پاناما پیپرز نواز شریف کے لیے ایک کڑا امتحان

واک آوٹ سے پہلے خورشید شاہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ وزیراعظم نواز شریف ایوان میں آ کر قوم کو اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی وضاحت کریں اور بتائیں کہ کل کیا تھا اور آج کیا ہے اور میں اس معاملے میں قصوروار نہیں ہوں۔

انھوں نے کہا ہے کے حزب اختلاف کے پاناما لیکس کے حوالے سے عدالتی کمیشن کے ضابط کار میں صرف وزیراعظم کو ہدف بنانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے وزیراعظم کا نام اس لیے لیا گیا ہے کیونکہ وہ سب سے بڑے عہدے پر ہیں اور ہم آج بھی اس موقف پر قائم ہیں کہ ضوابطِ کار سب جماعتوں کے لیے برابر ہیں۔

اس کے بعد حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت قوم مقروض اور دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور خداراء حکومت نے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر جو وضاحتی اشتہارات میڈیا میں دیے ہیں ان کی کوئی وقت اور اہمیت نہیں ہے۔

انھوں نے وزیراعظم کی ایوان میں آنے کے موقف کو دوہراتے ہوئے کہا کہ’ یہاں آئیں، یہاں آ کر بات کریں اور آپ کا ہر حرف اربوں کے اشتہارات سے وزنی ہو گا۔‘

انھوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعظم ایوان میں نہیں آئیں گے تو ہم اس کو کیا تصور کریں گے اور شہری سمجھیں گے کہ مسئلے میں کوئی گڑ بڑ ہے اور اگر ایسا نہیں تو آ کر وضاحت کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کو ایوان میں آنا ہو گا اور جب تک ایسا نہیں کریں گے یہ ایوان اور قوم مطمئن نہیں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے حزب اختلاف کے عدالتی کمیشن کے لیے تیار کردہ ضابط کار کو دیکھے بغیر ہمیں بدنیت کہہ دیا اور اس کے ساتھ ہمارے سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا اعلان بھی کر دیا اور اگر نیت غط ہے کہ تو مذاکرات کرنے کا اعلان کیوں کیا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت اگر مذاکرات کی اہمیت کو سمجھتی ہے تو پھر ہماری نیت پر شک نہ کریں اور شک نہیں کرتے تو آئیں مل کر بیٹھ کر بات کرتے ہیں جس میں ہو سکتا ہے کہ حکومت کو اپنے ضابط کار پر قائل کر لیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت ہمیں نظرثانی کرنے پر قائل کر لے اور کوئی راستہ نکل آئے۔

شاہ محمود قریشی نے پاناما لیکس کی دوسری فہرست کے جاری ہونے کا ذکر کرتے ہوئے حکومتی رویے کی وجہ سے قوم کے ابہام میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ پورے نظام کے لیے خطرناک بات ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ نظام پر کوئی آنچ آ جائے۔

اس کے بعد قائد حزب اختلاف نے وزیراعظم کی ایوان میں آمد کے مطالبے پر واک آؤٹ کر گئے جس پر حکومتی بینچز بھی بیٹھے ایک رکن نے کہا کہ’ اب پاناما ہی چلیں جائیں، یہاں واپس نہ آئیں۔‘

حزب اخِتلاف کے واک آوٹ کے بعد سپیکر نے دو وزرا برجیس طاہر اور ریاض پیر زادہ کو ہدایت کی کہ وہ حزب اختلاف کو منا کر لائیں لیکن وہ ناکام واپس لوٹے، بعد میں سپیکر نے دوبارہ انھیں ہدایت دی۔

اسی بارے میں