’شمسی بچے نارمل زندگی گزار سکتے ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

مجھے گھر یاد آ رہا ہے!

فٹبال کھیلنا اچھا لگتا ہے!

شعیب اور رشید بھی اپنے ہم عمر بچوں کی طرح کرکٹ اور فٹبال کھیلنے کے شوقین ہیں۔ چند روز قبل کوئٹہ کے قریب پسماندہ علاقے میاں غنڈی کے ان بچوں کا معمول مدرسے میں پڑھنا، محلے میں کھیلنا کودنا اور شام کو نڈھال ہو کر نیم مفلوج حالت میں سو جانا تھا لیکن گذشتہ چند دنوں سے اُن کے معمولات بدل گئے ہیں۔

وہ ایک پسماندہ علاقے کے عام بچوں کے بجائے شمسی یا سولر بچوں کے نام سے مشہور ہو گئے ہیں اور اُن کے اردگرد ڈاکٹروں اور میڈیا چینلز کی بھیٹر ہے۔

شعیب کی عمر تیرہ سال ہے اور اُن کے چھوٹے بھائی رشید نو سال کے ہیں۔ یہ دونوں بچے اپنے والد کے ساتھ گذشتہ ایک ہفتے سے دارالحکومت کے پمز ہسپتال میں موجود ہیں۔

یہ بچے منفرد نوعیت کے جنییاتی مرض میں مبتلا ہیں۔ جس میں صبح کے اوقات میں وہ دوسرے بچوں کی طرح متحرک ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی شام ہوتی اور سورج ڈھلتا ہے اُن کو توانائی ختم ہونے لگتی ہے اور وہ نیم مردہ حالت میں بستر پر پڑے رہتے ہیں۔

شمسی بچوں کے والد محمد ہاشم کا کہنا ہے کہ اُن کے چھ بچوں میں سے تین بچے اس طرح کی مرض میں مبتلا ہیں۔

والد محمد ہاشم کہتے ہیں کہ ان کی ’دو بیٹیاں ہیں اور چار بیٹے ہیں، بیٹیاں ٹھیک ہیں لیکن تین بیٹے ایسے ہیں۔ مغرب کے بعد ان کی طبعیت خراب ہوتی ہے۔ وہ باتھ روم بھی نہیں جا سکتے۔‘

Image caption ڈاکٹروں کے بقول بچوں کی یہ حالت ایک جینیاتی خرابی کے باعث تھی

انھوں نے بتایا کہ انھیں بیٹے کی بیماری کا اندازہ اُس وقت ہوا جب شعیب دو سال کا تھے۔

’شعیب کو ہم بولان میڈیکل کمپلکس لے کر گئے لیکن ڈاکٹروں کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا ہے۔ ٹی وی رپورٹ چلی تو پھر ہمیں یہاں بلایا گیا ہے۔‘

بچوں کے والد کا کہنا اب تک اُن کے بچوں کے تین سو سے زائد ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔

پاکستانی انسٹییویٹ آف میڈیکل سائنس کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ اڑتیس سے زیادہ طبی ماہرین ان بچوں کا معائنہ کر چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں رشتے داروں میں شادیاں ہونے کا رجحان زیادہ ہے اور ایسا لگتا ہے یہ بچے کسی جنیاتی مرض میں مبتلا ہیں۔

ڈاکٹر جاوید اکرام نے بتایا کہ ’ان کے دماغ میں نیورو ٹرانسمیٹر ایمبلینس ہے۔ اعصاب اور پٹھوں کی ٹرانسمیشن میں حصہ لینے والے کمپاونڈ۔ جیسے سیریٹونن اور ڈوپامین وغیرہ میں عدم توازن ہے۔اس سے پہلے دنیا میں اس طرح کی بیماری کہیں رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔‘

ڈاکٹر جاوید نے بتایا کہ تجرباتی طور پر بچوں کو مختلف دوائیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

’ہم ٹیسٹ کرنے کے لیے انھیں مختلف کیمکلز دے رہے ہیں جیسا ڈوپامین کا ان پر بہت اچھا اثر پڑا اور ان میں زندگی لوٹ آتی ہے۔ یہ صحیح ہو جاتے ہیں لیکن ہم ڈی این اے کا تفصیلی معائنہ کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈاکٹروں کے بقول ان بچوں کی وجہ سے ایک نئی بیماری سامنے آئی ہے

ڈاکٹر جاوید اکرم نے اُمید ظاہر کی ہے کہ یہ بچے دیگر بچوں کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں۔

پاکستان میں رشتے داروں کی آپس میں شادیاں کا رجحان بہت زیادہ ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق رشتے داروں میں شادیوں کی وجہ سے پاکستان میں جنیاتی بیماریاں دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بچوں کی جین میں موجود خرابی کا جائزہ لینے کے تفصیلی معائنہ کیا جا رہا ہے لیکن اُس کے ساتھ ماحولیاتی یعنی پانی، مٹی اور ہوا کے نمونوں کو بھی ٹسیٹ کیا جا رہا تاکہ جین میں خرابی (میوٹیشن) کی وجہ معلوم کی جا سکے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ ان بچوں کی وجہ سے ایک نئی بیماری سامنے آئی ہے جس پر تحقیق کی جا رہی اور مغربی ممالک نے بھی ریسرچ میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

ہاشم کے نو بچوں میں سے تین انتقال کا انتقال ہوچکا ہے اور باقی تین بچے اپنی نوعیت کے اس منفرد عارضے میں مبتلا ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ شام ڈھلتے ہی اپنے بچوں کو نیم مردہ حالت میں دیکھ انھیں افسوس تو ہوتا ہے لیکن بچوں کی صحتیابی کی امید ابھی زندہ ہے۔

’سب ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ میڈیا والے بھی آتے ہیں۔ بچے جلد از جلد ٹھیک ہو جائیں تو ہم اپنے گھر جائیں۔‘

اسی بارے میں