’نوٹ درختوں پر نہیں اگتے‘، کوئٹہ میں ڈاکٹروں کا احتجاج

Image caption کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے حق میں طویل عرصے سے احتجاج پر ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ڈاکٹروں نے جعلی نوٹ لگے مصنوعی درختوں اور شربت کی ریڑھی کے ساتھ احتجاج کیا ہے۔

ڈاکٹروں نے یہ انوکھا احتجاج سینیئر ڈاکٹر ارشاد کھوسہ کی بازیابی اور اپنے دیگر مطالبات منوانے کے لیے کیا۔

کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے حق میں طویل عرصے سے احتجاج پر ہیں لیکن دو روز قبل سینیئر ڈاکٹر ارشاد کھوسہ کے اغوا کے خلاف انھوں نے شہر میں ایک احتجاجی ریلی نکالی۔

سول ہسپتال سے نکالی جانے والی ریلی میں دو انوکھی چیزیں تھیں۔ ان میں سے ایک وہ دو مصنوعی درخت تھے جن پر جعلی نوٹ لگائے گئے تھے۔

اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حفیظ مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ حکام سے جب مذاکرات کرنے گئے تھے انہیں یہ جواب دیا گیا تھا کہ نوٹ درختوں پر نہیں اگتے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس اجلاس میں درختوں پر نوٹوں کی نہ اگنے کی بات گرفتاری سے قبل بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی نے کی تھی۔‘

Image caption ڈاکٹروں نے یہ مطالبہ کیا کہ اغوا ہونے والے سینیئر ڈاکٹر کو فوری طور بازیاب کرنے علاوہ ان کے دیگر مطالبات تسلیم کیے جائیں

انھوں نے بتایا کہ جب نیب نے سابق سیکریٹری خزانہ کے گھر پر چھاپہ مارا تو وہاں سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’درختوں پر جعلی نوٹ لگاکر احتجاج کے ذریعے یہ بتانا ہے کہ یہاں درختوں پرنوٹ صرف بیوروکریسی اور بڑے لوگوں کے لیے اگتے ہیں۔‘

اس کے علاوہ ڈا کٹر وں کی ریلی میں ایک ریڑھی بھی تھی جس پر وہ شربت دیتے رہے ۔

ریلی میں ریڑھی ان کی جانب سے علامتی طور پر اس بات کا اظہار تھا کہ معاشی مسائل کے باعث وہ ریڑھی لگانے پر مجبور ہوں گے ۔

ریلی کے شرکا مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچے اور اپنے مطالبات کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

ڈاکٹروں نے یہ مطالبہ کیا کہ اغوا ہونے والے سینیئر ڈاکٹر کو فوری طور بازیاب کرنے علاوہ ان کے دیگر مطالبات تسلیم کیے جائیں۔

اسی بارے میں