فیصل آباد میں غیرت کے نام پر تین خواتین قتل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد میں پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر غیرت کے نام پر تین خواتین کو قتل کر دیا گیا ہے۔

فیصل آباد پولیس کے ترجمان عامر وحید نے بی بی سی اردو کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح تھانہ بلوچنی کی حدود میں پیش آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو اطلاع ملی کہ چک 92 ر ب میں تین خواتین کو، جو آپس میں رشتہ دار بھی تھیں، ان کے خاندان والوں نے قتل کر دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق اس اطلاع پر پولیس موقعے پر پہنچ گئی ہے اور ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ یہ غیرت کے نام پر قتل کا معاملہ ہے۔

عامر وحید کے مطابق تاحال اس سلسلے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد ہی مقدمہ درج کیا جائے گا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان خواتین کے چند خاندان والے فرار ہیں جبکہ مقدمہ درج ہونے کے بعد ہی قاتلوں کا تعین کیا جائے گا۔

چند روز قبل پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں نویں جماعت کی طالبہ کو زندہ جلائے جانے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں حکام کے مطابق شک کی بنیاد پر 25 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مکول نامی گاؤں سے تعلق رکھنے والی مذکورہ لڑکی پر اپنی سہیلی کے مبینہ فرار میں مدد دینے کا الزام تھا اور اسے مقامی جرگے کے حکم پر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال ملک بھر میں غیرت کے نام پر 1100 خواتین کو قتل کیا گیا جبکہ اس دوران غیرت کے نام پر قتل ہونے والے مردوں کی تعداد 88 ہے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی جانب سے جاری ہونے والی سنہ 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس ملک بھر سے 833 خواتین کو اغوا کرنے کے مقدمات رپورٹ کیے گئے اور ان واقعات میں ملوث افراد کی خلاف قانونی کارروائی بہت کم ہوئی ہے۔

اسی بارے میں