پاکستان کا موجودہ بحران، کب کیا ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں موجودہ سیاسی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور بظاہر حکومت کے لیے اس بحران سے نکلنے کے راستے مسدود ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بحران پاناما لیکس میں سامنے والے حقائق سے شروع ہوا اور اب تک کیا کیا ہوا؟

٭ اربوں کے مالک مگر سیاسی طور پر غریب: فراز ہاشمی کا کالم

19 جنوری 2016:

وزیر اعظم نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز نے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک انٹرویو میں اپنے کاروبار اور اثاثوں کے بارے میں بات کی۔ اسی انٹرویو میں انھوں نے لندن کے مہنگے ترین علاقے میں اپارٹمنٹس اور سنمدر پار یا ’آف شور‘ کمپنیوں کی ملکیت کا اعتراف کیا۔ اسی انٹرویو میں انھوں نے پارک لین اپارٹمنٹس کی سنہ 2006 میں خریدنے کی بات کی۔

7 مارچ :

حسین نواز ایک مرتبہ پھر ایک اور نجی ٹی وی چینل پر نظر آئے اور انھوں نے اس انٹرویو میں بھی اپنے اثاثوں کی بات کی۔ اس انٹرویو میں انھوں نے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنے والد کے خلاف لگنے والے کرپشن کے الزامات کی تردید کی۔

انھوں نے اس انٹرویو میں بھی لندن کے پارک لین اپارٹمنٹس سنہ 2006 میں خریدنے کی بات کی۔ انھوں نے ایک یہ بات بھی دہرائی کہ ان اپارٹمنس کو خریدنے کے لیے سرمایہ سعودی عرب میں سٹیل مل کی فروخت سے حاصل ہوا۔

3 اپریل :

پاناما پیپرز کی پہلی قسط سامنے آئی جس میں نواز شریف کے بچوں سمیت پاکستان کے سو کے قریب سرمایہ داروں، صنعت کاروں اور تاجروں کے علاوہ سیاست دانوں اور ججوں کے نام بھی آف شور کمپنیوں کے مالکان کی فہرست میں نظر آئے۔

پاناما پیپرز کے سامنے آنے کے بعد نواز شریف اور ان کے خاندان کے بیرون ملک اثاثوں کے حوالے سے بحث چھڑ گئی۔ نواز شریف کی لندن میں جائیداد کے حوالے سے ان کے خاندان کے افراد کی طرف سے ماضی میں دیے گئے انٹرویوز بھی کھود نکالے گئے اور ان میں واضح تضادات سے اس بحث میں اور شدت پیدا ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

5 اپریل :

پاناما لیکس کے بعد اٹھنے والے شور میں اتنی شدت پیدا ہوئی کہ نواز شریف کو قوم سے خطاب کرنا پڑا۔ اس خطاب کے شروع ہی میں انھوں نے یہ کہا کہ وہ اپنی ذات اور اپنے خاندان پر لگنے والے الزامات کی وضاحت کرنے کے لیے قوم سے خطاب کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس خطاب میں کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی بات کی۔

6 اپریل :

پاکستان کی دو سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں معمول کی کارروائی روک کر پاناما پیپرز میں شائع ہونے والے انکشافات پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بچوں کے بارے میں پاناما لیکس میں ہونے والے انکشافات پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان کی طرف سے شدید احتجاج کے بعد اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کیا گیا۔

7 اپریل :

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاناما لیکس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے شوکت خانم ہپستال کے خلاف حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیا۔ اس تقریر میں انھوں نے کہا کہ پاناما لیکس سامنے آنے کے بعد نواز شریف نے حکومت کرنے کا اخلاقی جواز کھو دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

13 اپریل:

پاناما پیپرز کے پر جاری ہنگامے کو بظاہر نظر انداز کرتے ہوئے وزیر اعظم میاں نواز شریف علاج کی غرض سے لندن چلے آئے۔

اسی دن پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف علاج کے لیے لندن گئے ہیں اور جیسے ہی ڈاکٹروں نے انھیں اجازت دی وہ واپس آ جائیں گے۔

22 اپریل:

وزیر اعظم نواز شریف نے عزیز ہم وطنوں سے ایک اور خطاب کیا۔ اس خطاب میں انھوں نے چیف جسٹس کو خط تحریر کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور ان کی سربراہی میں کمیشن بنانے پر بھی تیار ہو گئے۔ اس کے لیے حکومت نے ضابط کار بھی تجویز کیے۔

23 اپریل:

حکومتِ پاکستان نے پاناما لیکس کی عدالتی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھ دیا، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے چیف جسٹس ترجیحی طور پر اس عدالتی کمیشن کی سربراہی کریں۔ اس خط میں لکھا گیا کہ عدالتی کمیشن پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں تحقیقات کرے۔

27 اپریل:

وفاقی کابینہ نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجے گئے ضابطہ کار کی منظوری دے دی اور وفاقی کابینہ نے کہا کہ یہ ضابطہ کار حتمی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

دو مئی:

سینیٹ کی قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کی سربراہی میں اپوزیش کی جماعتوں کا ایک مشترکہ اجلاس ان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جس میں مجوزہ کمیشن کے ضوابطِ کار بنائے گئے۔

چار مئی:

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے وزیر اعظم نواز شریف سے پارلیمان میں آ کر اپنے خلاف لگنے والے الزامات کا جواب دینے کا ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا۔

9 مئی:

انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس یعنی آئی سی آئی جے نے پاناما کی قانونی فراہم موساک فونسیکا کے لیک ہوئے دستاویزات کی دوسری قسط میں مزید تفصیلات جاری کی جن میں مزید دو سے زیادہ پاکستانیوں کے نام سامنے آئے۔

دس مئی:

پاناما پیپرز سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی پہلی ملاقات وزیر اعظم ہاؤس میں ہوئی۔ اس ملاقات کے ضمن میں مقامی ذرائع ابلاغ میں پاناما پیرپرز کے حوالے سے بھی قیاس آرائیاں کی گئیں۔

13 مئی:

چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے حکومت کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو ضوابطِ کار حکومت نے تجویز کیے ہیں ان کے تحت بنایا جانے والے کمیشن بے اثر ہو گا اور تحقیقات ضوابطِ کار واضح نہ ہونے کی وجہ سے سالہاسال چل سکتی ہیں۔

اسی بارے میں