’بچاؤ کا راستہ اپوزیشن اور حکومت کے اتفاق میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’وزیراعظم کواس معاملے پر قوم سے خطاب نہیں کرنا چاہیے تھا‘

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اپنے تیسرے دورِ اقتدار میں ایک بار پھر مشکل صورتحال میں گھرے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس سے پہلے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران دباؤ میں تھے لیکن اس وقت بظاہر حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی ان کے ساتھ کھڑی تھی تاہم اس بار انھیں ایک مضبوط متحدہ اپوزیشن کا سامنا ہے۔

٭ ’وزیراعظم تقریر کی بجائے سات سوالات کا مفصل جواب دیں‘

پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف دو بار قوم سے خطاب کرنے کے بعد کیا پیر کو قومی اسمبلی میں جا کر اپوزیشن جماعتوں کو مطمئن کر پائیں گےاور چیف جسٹس کے جوابی خط کے بعد ان کے پاس آپشنز میں کیا ہے؟

سینئیر صحافی اور تجزیہ نگار ایم ضیا الدین کہتے ہیں کہ وزیراعظم کے پاس آپشنز تو بہت ہیں مگر وہ قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں پاناما لیکس کے تنازع پر کم ہی بات کریں گے۔

’ان کی تقریر لمبی تو ہوگی پاناما لیکس پر کوئی کمیٹی تو بننے کا امکان بھی ہے مگر بات حکومتی کارکردگی پر ہو گی، وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جہاں تک پاناما لیکس کا تعلق ہے اس پر پارلیمان میں بات کرنے کی ضرورت نہیں۔‘

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار افتخار احمد کے مطابق ’وزیراعظم کواس معاملے پر قوم سے خطاب نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ ان کے بیٹوں کے نام کا معاملہ تھا، اور اب اپوزیشن پاناما لیکس کے علاوہ بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔‘

ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کے مطابق اس وقت مشکل یہ نظر آتی ہے کہ قانون سازی کے لیے حکومت اور اپوزیشن کا اتفاق ضروری ہے۔ اگر معاملہ پارلیمان اور سیاست میں رہا تو معاملہ طول پکڑ سکتا اور کہیں بھی جا سکتا ہے۔

’اگر کوئی تحریک وزیراعظم کے خلاف چلائی جاتی ہے تو اس کی کامیابی کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اگر کمیشن بن جاتا ہے تو پھر اس کمیشن کی رپورٹ آنے تک معاملہ محدود ہو جائے گا۔‘

تاہم سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کی رائے مختلف ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’یا تو کوئی نیا قانون بنا کر عدالت کو اختیار دیا جائے یا پھر موجودہ قانون میں ترمیم کی جائے تاہم ایسی کوئی کوشش ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پاناما پیپرز کے حوالے سے تحقیقات کئی ماہ میں نہیں، برسوں کی بات ہے، پاناما دستاویزات تک رسائی، تحقیقات پھر لوگوں کو دفاع کا حق ملنا یہ طویل معاملہ ہے۔‘

بدعنوانی کے الزامات نہ تو نواز شریف اور نہ ہی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو پر لگائے جانے والے پہلے الزامات ہیں۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ سیاست دانوں پر سب سے زیادہ یہ ہی الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کو اس سے قبل دونوں مرتبہ اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں مل سکا اس بار بھی ان پر پہلے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگے اور اب ان کے خاندان کے اثاثوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاناما لیکس ک معاملے پر بات کریں گے

تجزیہ نگار ایم ضیا الدین کہتے ہیں کہ’منتخب حکومتوں میں کمزوریاں رہی ہیں لیکن دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے بحرانوں میں غیر منتخب ادارے اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ مختلف حرکتیں کرتے ہیں، میڈیا پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں کہ ان پر زیادہ دباؤ ڈالیں اور یہ ایک حقیقت ہے جو ہم آج کل دیکھ رہے ہیں۔‘

سعید الزامان صدیقی کے خیال میں بچاؤ کا راستہ اپوزیشن اور حکومت کے اتفاق میں ہے۔

’وزیراعظم اپنا عہدہ تو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی روایت ہے مگر حل یہی ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر وزیراعظم سپریم کورٹ کو کوئی متفقہ فارمولا پیش کریں کیونکہ اس ملک میں پہلے کئی بار ایسی صورتحال دیکھتے ہوئےاسٹیبلشمنٹ نے مداخلت کی۔‘

اسی بارے میں