’وزیراعظم تقریر کی بجائے سات سوالات کا مفصل جواب دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption پرویز رشید کے مطابق اپنے بچوں کے بیرونِ ملک کاروبار کے بارے میں جو بھی حقائق ہیں وزیرِاعظم تفصیل سے ایوان کو اس بارے میں آگاہ کر دیں گے

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا تفصیل سے جواب دیں گے۔

اس سے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے ایوان کو بتایا تھا کہ وزیراعظم گذشتہ جمعے کو اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے لیکن وہ مصروفیات کی وجہ سے ایوان میں نہیں آ سکے۔

*حکومت ہی عقل کو ہاتھ مارے

*پاکستان کا موجودہ بحران، کب کیا ہوا؟

خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت حزبِ مخالف کی دیگر جماعتوں نے پانامہ پیپرز میں وزیراعظم کے خاندان پر لگنے والے الزامات کے بعد مشترکہ طور پر وزیرِاعظم سے سات سوالات پوچھے تھے اور ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں آ کر ان سوالوں کا جواب دیں۔

حزب اختلاف نے گذشتہ ہفتے وزیراعظم کے ایوان میں آ کر پاناما لیکس پر وضاحت دینے تک پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے واک آؤٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اتوار کو بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پامانہ پیپرز کے حوالے سے مخالفین نے ’جو بھی گرد اڑائی ہے اور حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا ہے، وزیراعظم اس حوالے سے ایوان کے سامنے حقائق پیش کریں گے۔‘

حزبِ مخالف کی جانب سے وزیرِ اعظم سے پوچھے گئے سات سوالوں کے حوالے سے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ اگرچہ وزیرِ اعظم تمام تفصیل واضح کریں گے لیکن اسمبلی میں سوال پوچھنے کے کچھ آئینی تقاضے ہیں اور وزیرِاعظم سے وقفۂ سوالات میں ہی سوال کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیرِاعظم حزبِ مخالف کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر تفصیل سے بات کریں گے تاکہ عوام حقائق سے آشنا ہو سکیں۔‘

پرویز رشید کا کہنا تھا پیر کو وزیراعظم کی تقریر کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ ان پر جو الزامات لگائے جا رہے ہیں وہ بےبنیاد ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیرِ اعظم نے اپنے موجودہ اور سابقہ دورِ اقتدار میں کبھی بھی کسی کاروبار کے لیے بیرونِ ملک رقم نہیں بھیجی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم پاناما لیکس پر دو بار قوم سے خطاب کر چکے ہیں لیکن اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اپنے بچوں کے بیرونِ ملک کاروبار کے بارے میں جو بھی حقائق ہیں وزیرِاعظم تفصیل سے ایوان کو اس بارے میں آگاہ کر دیں گے۔

وزیرِ اعظم کی جانب سے ایوان میں کم آنے کے حوالے سے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اپنے مخصوص حالات ہیں اور وزیرِ اعظم کو بہت سے دیگر کام کرنے ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا ملک میں جاری فوجی آپریشن، توانائی کے بحران، معاشی بدحالی اور ایسے دیگر مسائل کی وجہ سے وزیرِاعظم بہت مصروف رہتے ہیں جس کے باعث وہ ایوان میں کم آتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماہ شاہ محمود قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم منتظر ہیں کہ وزیرِاعظم پیر کو اپنے اوپر لگے الزامات کی کیا وضاحت پیش کرتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم اس حوالے سے دو بار قوم سے خطاب کر چکے ہیں لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ پیر کو وہ ایوان میں تقریر کے بجائے مشترکہ حزبِ اختلاف کے جانب سے اٹھائے گئے سات سوالات کا مفصل جواب دیں۔

Image caption شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم پیر کو وہ ایوان میں حزبِ اختلاف کے جانب سے اٹھائے گئے سات سوالات کا مفصل جواب دیں

شاہ محمود قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ حزبِ مخالف کا مطالبہ ہے کہ وزیرِاعظم وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائیں جو اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کے عدالتی کمیشن کے لیے مشترکہ ٹی او آرز بنائے۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا وزیرِاعظم سے یہ بھی مطالبہ ہوگا کہ ایک مشترکہ قانونی کمیٹی بنائی جائے جو عدالتی کمیشن بنانے کے لیے قانون سازی کرے کیونکہ چیف جسٹس نے 1956 کے ایکٹ کے تحت کمیشن کی تشکیل کو مسترد کر دیا ہے۔

تحریکِ انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’ہم وزیراعظم سے کہیں گے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں۔‘

مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم وزیرِاعظم کا موقف سننے کے بعد حزبِ مخالف کی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں اس حوالے سے کوئی فیصلہ کریں گے۔

اسی بارے میں