’پاکستان میں القاعدہ کے بانی سمیت آٹھ شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس کے شعبۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نےدعویٰ کیا ہے کہ ملتان کے قریب ایک چھاپے کے دوران القاعدہ کے آٹھ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق مارے جانے والوں میں پاکستان میں القاعدہ کا مبینہ بانیوں میں سے ایک بھی شامل ہے جو راولپنڈی میں پریڈ لین کی مسجد پر حملے کا منصوبہ ساز بھی تھا۔

لاہور سے صحافی عبدالناصر نے بتایا کہ سی ٹی ڈی پنجاب کے ترجمان کے مطابق انہیں اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کمانڈر منیب جاوید عرف قلندری اور طیب نواز عرف حافظ عبدالمتین اپنے ساتھیوں منیب رزاق عرف عبدالرحمان، ذیشان عرف ابو دجانہ کے ہمراہ ملتان آ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق ان شدت پسندوں نے ملتان کے نواح میں ایک اور القاعدہ کمانڈر بلال لطیف عرف یاسر پنجابی اور دو خودکش بمباروں سے ملاقات کرنی تھی اور ایک یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ بندی کرنی تھی۔

سکیورٹی اداروں کی جانب سے ملنے والی اطلاع پر سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب دریائے چناب کے کنارے واقع گاؤں نواب پور میں شدت پسندوں کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد یاسر پنجابی اور منیب جاوید تو اپنے دیگر چھ ساتھیوں سمیت موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم ان کے آٹھ ساتھی مارے گئے۔

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق مارے جانے والے القاعدہ شدت پسندوں میں طیب عرف حافظ عبدالمتین، منیب رزاق عرف عبدالرحمان، ذیشان عرف ابو دجانہ بھی شامل ہیں۔

ان شدت پسندوں کو سرگودھا میں بریگیڈیئر فضل قادری کے قتل میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔

حافظ عبدالمتین کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کا شمار پاکستان میں القاعدہ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ انھیں راولپنڈی کے پریڈ لائن حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی سمجھا جاتا ہے۔

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق حافظ عبدالمتین القاعدہ کے لجنا شریعہ کے بھی رکن تھے جس کے ذمہ القاعدہ کے لیے فنڈز اکٹھے کرنا، جنگجو بھرتی اور دیگر لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنا ہے۔

اسی بارے میں