پاکستان میں شدید گرمی، کئی علاقوں میں ریکارڈ ٹوٹ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے میدانی علاقے بالخصوص صوبہ سندھ میں اس وقت گرمی کی شدید لہر جاری ہے جہاں کئی علاقوں میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔

محکمۂ موسمیات نے گرمی کی حالیہ لہر کی وجہ سے لوگوں کو ہیٹ سٹروک سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور ایسا ہی مشورہ خبیبر پختونخوا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کی کی ہے۔

٭ شدید گرمی کی لہر: تصویروں میں

٭ ’گرمی پڑے گی لیکن اتنی نہیں‘

پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے ماہر ڈاکٹر محمد حنیف کےمطابق اس وقت پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقے شدید گرمی کی زد میں ہیں۔ آج بدھ کو سندھ کے کئی جنوبی علاقوں میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے اور حیدر آباد میں درجہ حرارت 49 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جو 1986 کے بعد ریکارڈ سطح ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں گرمی کی لہر معمول کے مطابق ہے اور اگر یہ طویل اختیار کرتی ہے تبھی پریشانی کا باعث ہو گی، تاہم صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں یہ لہر مزید ایک دن جبکہ جنوبی علاقوں سندھ، بلوچستان میں مزید دو دن تک جاری رہے گی۔

سندھ میں گرمی کی شدید لہر کا صوبے کے سب سے بڑے شہر کراچی پر اثرات مرتب ہونے سے متعلق ڈاکٹر حنیف نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں جب میدانی علاقوں میں گرمی پڑتی ہے تو ساحلی علاقوں میں موسم زیادہ گرم نہیں ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت کراچی کی ہوا میں نمی کا تناسب معمول کے مطابق ہے اور فی الحال رواں موسم گرما میں کراچی میں گذشتہ سال میں جون کی طرح شدید گرمی کی لہر آنے کا کوئی امکان نہیں جس میں سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

ڈاکٹر محمد حنیف کراچی سمیت صوبہ سندھ کے لیے اچھی اطلاع بھی دی کہ تین برس بعد رواں سیزن میں مون سون کی بارشیں معمول کے مطابق ہوں گی۔

خیال رہے کہ صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر کو کم بارشوں کے باعث خشک سالی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے درجنوں اموات واقع ہو چکی ہیں۔

پاکستان میں مون سون کی بارشیں کم ہوں تو اس کے مسائل الگ ہیں اور اگر زیادہ ہوں تو سیلاب کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

اس پر ڈاکٹر محمد حنیف نے کہا کہ رواں ماہ مئی کے درجہ حرارت کا ریکارڈ حاصل کر کے اس کا تجزیہ کیا جائے اور انھی کی بنیاد پر مون سون کی بارشوں کے رجحان کا اندازہ ہو سکے گا، تاہم ابھی تک کی دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ سندھ میں اچھی برسات ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں معمول کے مطابق گرمی پڑنے کا امکان ہے اور ہوا میں نمی بھی معمول کے مطابق ہے

صوبہ سندھ کے شہر شہداد کوٹ کے سماجی کارکن مراد پندرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ جیکب آباد اور لاڑکانہ سمیت پوری پٹی میں شدید گرمی کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک کم ہو گئی ہے۔

انھوں نے بتایا آج ان کے شہر میں درجہ حرارت 50 سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔

انھوں نے کہا کہ لوگ بہت ضروری کام کے سلسلے میں ہی گھر سے نکلتے ہیں لیکن بجلی کی طویل بندش کی وجہ سے لوگوں کو گھروں میں بھی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں شدید گرمی کی وجہ سے سکولوں میں بچوں کو جلد چھٹی دے دی گئی جبکہ دیگر علاقوں میں بھی سکول کے اوقات دوپہر ساڑھے 12 تک ہی ہیں۔

خیال رہے کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جس کی وجہ سے گذشتہ کئی برسوں سے اسے غیر معمولی حالات کا سامنا ہے جس میں ملک کے سب سے بڑے شہر میں شدید گرمی سے سینکڑوں جانیں ہوئیں تو دوسری جانب تھر میں مستقل خشک سالی کا سامنا ہے۔

دوسری جانب مئی میں ملک کے شمالی علاقوں میں غیر متوقع شدید بارشوں اور پہاڑوں پر برفباری سے کئی جانیں ضائع ہو گئیں۔

اسی بارے میں