الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے لیےآئینی ترمیم منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان 2013 کے انتخابات کے بعد سے الیکشن کمیشن کو ’آزاد‘ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں

پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زریں یعنی قومی اسمبلی نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی سے متعلق 22 آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی ہے۔

قومی اسمبلی سے اس آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اس کو پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینٹ میں بھجوایا جائے گا۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی اس آئینی ترمیم میں چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے طریقہ کار کو تبدیل کیاگیا ہے اور اب چیف الیکشن کمشنر کےلیے سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جج ہونے کی شرط ختم کرد ی گئی ہے۔

اس آئینی ترمیم کے تحت پاکستا ن کے چیف جسٹس سے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے کا اختیار بھی واپس لے لیاگیا ہے اور اب الیکشن کمشن کا سنیئیر رکن چیف الیکشن کمشنر کی عدم موجودگی میں چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں ادا کرسکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 22ویں آئینی ترمیم کی منظور کے بعد کسی بھی سینیئر بیوروکریٹ کو الیکشن کمشنر تعینات کیا جا سکے گا

اس آئینی ترمیم کے تحت 22 ویں گریڈ کا کوئی بھی ریٹائرڈ افسر یا بیس سال کی سروس کا تجربہ رکھنے والے اور یا پھر ٹیکنوکریٹ بھی چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر تعینات کیا جاسکے گا۔

اس ترمیم کے تحت الیکشن کمیشن سینٹ کی طرح کام کرے گا جن میں سے کمیشن کے آدھے ارکان ڈھائی سال کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ اس ترمیم کے تحت چیف الیکشن کمشنر کی عمر68 برس جبکہ الیکشن کمیشن کے ممبر کی عمر65 تک مقرر کی گئی ہے۔

سینیٹ میں اس ترمیم کی منظوری کے بعد اس ترمیم کے مسودے کو حمتی منظوری کے لیے صدر کو بھیجا جائے گا اور اس سمری پر دستخط ہونے کے بعد یہ ترمیم پاکستان کے آئین کا حصہ بن جائے گی۔

واضح رہے کہ حزب مخالف کی جماعتیں اور بلخصوص پاکستان تحریک انصاف الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں اور یہ جماعتیں یہ بھی الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ سنہ 2013میں ہونے والے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کے کچھ ارکان نے حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کا ساتھ دیا تھا تاہم حزب مخالف کی جماعتیں اس معاملے کی عدالتی تحقیقات میں کوئی ثبوت عدالتی کمیشن کے سامنے پیش نہ کرسکیں۔

اسی بارے میں