حکمت یار سے افغان حکومت کے معاہدے کا خیر مقدم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغان حکومت اور شدت پسند گروہ حزب اسلامی کے درمیان امن معاہدے پر اتفاق کا خیر مقدم کرتا ہے اور ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو شدت پسند گروہوں کو مذاکرات کے میز پر لائے۔

یہ بات پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں کہی۔

اس سوال پر کہ افغانستان میں امن کے لیے جاری مصالحتی عمل کے تحت حزب اسلامی کے ساتھ افغان حکومت کے معاہدے پر پاکستان کا کیا ردعمل ہے، ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان اس کا خیرمقدم کرتا ہے اور ایسی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔‘

میڈیا اطلاعات کے مطابق افغانستان نے گذشتہ روز حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کے ساتھ امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنہ 2013 میں امریکہ نے القاعدہ اور طالبان سے تعلق کے الزام میں گل بدین حکمت یار کو انتہا پسندوں کی فہرست میں شامل کیا تھا

کئی دہائیوں تک افغان جنگ میں سرگرم رہنے والے گلبدین حکمت یار پر 1990 کی خانہ جنگی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی لگے جب وہ محدود عرصے کے لیے ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز تھے۔

سنہ 2013 میں امریکہ نے القاعدہ اور طالبان سے تعلق کے الزام میں گل بدین حکمت یار کو انتہا پسندوں کی فہرست میں شامل کیا تھا اور ان کا نام ابھی بھی فہرست میں موجود ہے۔

تاہم بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں پاکستان کے قریب سمجھے جانے والا یہ گروہ کچھ عرصے سے افغانستان میں اتنا سرگرم نہیں اس لیے اس کے ساتھ امن معاہدے کے مسودے پر دستحظ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں زیادہ مدد گار ثابت نہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ روز ہونے والے چار فریقی اجلاس کے بعد تمام فریقین متفق ہیں کہ امن کو موقع دینا ہو گا کیونکہ اس سے بہتر کوئی راستہ نہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے آپ نے دیکھا کہ طاقت کے استعمال کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس لیے افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات ہی حل ہے۔‘

Image caption گل بدین کا گروہ کافی عرصےسے زیادہ سرگرم نہیں تھا

انھوں نے کہا کہ تمام فریق متفق ہیں کہ افغانستان میں امن کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی اور پاکستان کا فائدہ افغانستان میں امن سے ہی ہے۔‘

حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے افغان مطالبے سے متعلق دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان انتہاپسندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر رہا ہے۔

نفیس ذکریا نے کہا کہ ’ ہم تمام انتہا پسند گرہوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کر رہے اور یہ بات ہم بار بار کہہ چکے ہے ۔اس سلسلے میں پاکستان پر شک کرنا غلط ہے اور یہ تقویت دیتا ہے ان لوگوں کو جو افغانستان میں امن نہیں چاہتے۔ ہم بار بار یہ زور دے رہے ہیں کہ جو اس طرح کے بیانات جاری کرتے ہیں انھیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔‘

بھارت کے ساتھ سیکریٹری سطح کے مذاکرات کی بحالی پر دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بات چیت کے لیے تیار ہے اور جب کسی تاریخ سے متعلق فیصلہ ہوگا تو میڈیا کو مطلع کیا جائے گا۔

بھارت کی جانب سے سپرسونک انٹرسیپٹر میزائل کے کامیاب تجربے پر دفتر خارجہ نے پاکستان کا موقف دہراتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں