انڈیا کے میزائل تجربات پر پاکستان کو گہری تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے انڈیا کی جانب سے سپر سونک انٹرسیپٹر میزائل کے کامیاب تجربہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے پاکستان اس مسئلہ کو ہر بین الاقوامی فورم پر اٹھائے گا۔

اسلام آباد میں جمعرات کو سینیٹ میں پالسی بیان دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا انڈیا کی جانب سے یکے بعد دیگرے میزائلوں کے تجربات پر پاکستان کو گہری تشویش ہے اور پاکستان اپنی دفاعی صلاحتیوں کو بڑھانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔

٭ ’انڈیا کے ہتھیاروں کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھائیں گے‘

٭ بیلسٹک میزائل تجربے سے توازن خراب ہو گا

٭ انڈیا کا اسرائیل کی مدد سے بنائے گئے میزائل کا تجربہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے بحرہِ ہند میں بڑھتی ہوئی جوہری سرگرمیاں کو پاکستان تمام متعقلہ بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے گا۔

سرتاج عزیر نے کہا بحرہِ ہند کو جوہری سرگرمیوں سے پاک بنانے کے لیے ایک زیر غور تجویز ہے کہ رواں برس ستمبر میں منعقدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرادار پیش کی جائے۔

مشیرِ خارجہ نے کہا اس قراداد کے حق میں ان تمام 32 مملک سے رابطے کیے جائیں گئے جو بحرہِ ہند سے منسلک ہیں۔

سینٹ میں اپنے پالیسی بیان کے آغاز میں سرتاج عزیز نے انڈیا کی جانب سے سپر سونک انٹرسیپٹر میزائل اور سبمرین بیلسٹک میزائلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی جانب سے یہ اقدام بحرہِ ہند میں جوہری سرگرمیاں بڑھانے کے مترادف ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا اس سے نہ صرف جبونی ایشیا میں سٹریٹیجک توازن کو نقصان پہنچے گا بلکہ تمام 32 مملک کی بحری حدود کی نگرانی یا سیکورٹی بھی متاثر ہو گی۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا پاکستان کی جانب سے امن اور دوستی کی کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان اپنے شہریوں کے دفاع کے لیے مکمل تیار ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والے اس بیان پر کہ پاکستان کو ایف 16 طیاروں کے آپریشن سے متعلق منظوری امریکہ دے گا پر چیئر مین سینٹ رضا ربانی نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے اندورنی معاملات میں مداخلت ہے۔

ان کا کہا تھا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے۔ انھوں نے حکومتی نمائندوں سے کہا کہ ان کے تحفظات امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمینٹ تک پہنچا دیے جائیں۔ خیال رہے کہ چیئرمین سینٹ رضا ربانی کے کہنے پر سرتاج عزیز نے اس مسئلے پر اپنا پالیسی بیان دیا تھا۔

اکاڑہ کے مزارعین کی زمین پر سیکورٹی اداروں کے قبضے کے معاملے کو سینٹ چیئرمین نے سینٹ کی انسانی خقوق کی قائمہ کمیٹی کو بھیجوایا دیا ہے۔

اس سلسلے میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اوکاڑہ کے بیشتر مزارعین کی گرفتاری اور ان پر دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمات چلانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا ’پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بننے والے قوانین چاہے وہ تحفظ پاکستان قانون ہی کیوں نہ ہو، دہشت گردوں کے مقابلے میں مزارعین اور انسانی خقوق کے کارکنوں کے خلاف زیادہ استعمال ہو رہے ہیں اور مجھے اب کوئی حیرت نہ ہو گی اگر ان مزارعین پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔‘

اس پر چیئرمین سینٹ نے کہا ’ان قوانین پر آپ نے بھی دستخط کیے تھے۔‘ جس کے جواب میں سینیٹر بابر نے کہا ’اس پر بعض نے آنسو بھی بہائے تھے مگر اس سے مسئل ختم نہیں ہوں گے۔‘

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے نے اس سلسلے میں حکومت سے تین مطالبات کیے۔ کسانوں کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے بلکہ حکومت گندم کسانوں سے خود خریدے، سب سڈیز کی قیمت پر نطر ثانی کی جائے، کسانوں کو یہ باور کرانے کے لیے کہ ان کے تمام جائز مطالبات مان جائے گے، حکومت علامتی طور پر انجمن مزارعین پنجاب کے تمام کسانوں کو رہا کرئے اور ان پر چلنے والے مقدمات خارج کرئے، کسانون کی زمین کے تنازع کو ختم کرنے کے لیے ان کے ساتھ مزاکرات کیے جائیں۔

اسی بارے میں