اصل یا نقل ’ہونی ڈیزائنر لان چاہیے‘

Image caption ٹیکسٹائل میں ڈیجیٹل پرنٹنگ اور روایتی پھول بوٹوں سے ہٹ کر رنگوں کے حسین امتزاج سے بنائے گئے ڈیزائنر لان کی وجہ سے ان کی فروخت 50 فیصد بڑھ گئی ہے

موسمِ گرما میں جہاں لوگ سورج کی دن بہ دن زور پکڑتی تپش کے باعث معمولاتِ زندگی درہم برہم ہونے کا رونا رو رہے ہوتے ہیں وہاں یہی آگ برساتا سورج کسی کے لیے باعثِ نوید ہوتا ہے۔ وہ کپڑوں بالخصوص لان کا کاروبار کرنے والے تاجر ہیں۔

* لان کا کاروبار، پاکستان کے لیے اچھی خبر:ویڈیو

* ’غریب آدمی کا تو یہ لنڈا ہی دوست ہے‘

موسم گرما کے آغاز سے پہلے ہی لان کی فروخت سے متعلق اشتہارات لگنے اور گرمی کا زور پکڑتے ہی سیل سیل سیل کے بینرز خواتین کو راغب کرنے لگتے ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں پاکستان میں ڈیزائنر لان نے نہ صرف خواتین کے ذوق کو بڑھایا ہے بلکہ شوق بھی انتہاؤں کو پہنچ چکا ہے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ جب خواتین خریداری کرنے نکلتی ہیں تو چھ سے سات سوٹ لیے بنا نہیں جاتیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ٹیکسٹائل میں ڈیجیٹل پرنٹنگ اور روایتی پھول بوٹوں سے ہٹ کر رنگوں کے حسین امتزاج سے بنائے گئے ڈیزائن ہیں۔ ان کے بقول کہ ڈیزائنر لان کی وجہ سے ان کی فروخت 50 فیصد بڑھ گئی ہے۔

اسلام آباد کی جناح سپر مارکیٹ میں کپٹرے کے تاجر زاہد کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں اعلی معیار کی لان اور کاٹن تیار کی جاتی ہے لیکن چونکہ خواتین کو بین الاقومی برانڈ اور ڈیزائنر کا شوق زیادہ ہوتا ہے اس لیے ملک میں تیار کی جانے والی لان کو بھی ایسے نام دیے جاتے ہیں جن سے ایسا لگے کہ یہ کہیں دوسرے ملک سے منگوائی گئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر خواتین سے محض یہ بھی کہہ دیا جائے کہ یہ تھائی یا سوئس لان ہے تو وہ خوشی خوشی کپڑا خرید لیتی ہیں۔

ایسی ہی ایک مہنگے کپڑوں کی دکان میں ایک خاتون نسبتاً سادہ اور روایتی رنگوں اور ڈیزائن والی ’کم قیمت‘ لان خریدتے نظر آئیں۔ پوچھنے پر کہنے لگیں ’میں ڈیزائنر لان کی زیادہ شوقین نہیں ہوں۔ مجھے لان اس لیے پسند ہے کہ یہ گرمیوں میں کافی آرام دہ ہوتی ہے۔ اور ڈیزائنر لان کافی مہنگے بھی ہوتے ہیں۔‘

Image caption تاجروں کے بقول رواں برس کپڑوں کی قیمتیں تو نہیں بڑھیں لیکن فروخت میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ باقی ضروریاتِ زندگی کے مہنگے ہو جانے کی وجہ سے لوگوں کی آمدن کا بڑا حصہ وہاں لگ جاتا ہے

اسلام آباد کی قدرے مصروف آپبارہ ماکیٹ میں بھی کپڑوں کی دکانوں پر رش نظر آیا۔ یہ نسبتاً درمیانے طبقے کے لوگوں میں مقبول بازار ہے۔

کپڑے کی دکان پر کام کرنے والے ساجد عباسی کا کہنا ہے کہ رواں برس اب تک کپڑوں کی فروخت گذشتہ برسوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ ’جو خواتین پانچ سے دس سوٹ لے جاتی تھیں اب ایک دو پر ہی اکتفا کر رہی ہیں۔‘

ساجد عباسی کے بقول لوگوں کی قوتِ خرید اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ ’کپڑوں کی قیمتیں تو نہیں بڑھیں لیکن بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں یو پی ایس کے استعمال اور باقی ضروریاتِ زندگی کے مہنگے ہو جانے کی وجہ سے لوگوں کی آمدن کا بڑا حصہ وہاں لگ جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ڈیزائنر لان کی مقبولیت کے باعث متوسط طبقے کے لیے کم قیمت ریپلیکا بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

ساجد عباسی نے بتایا ’خواتین ٹی وی کپڑے دیکھ کر آتی ہیں اور انھیں ویسے ہی کپڑے چاہیے ہوتے ہیں لیکن قوتِ خرید نہیں ہوتی۔ لیکن ریپلیکا میں سات سے آٹھ ہزار تک ملنے والا سوٹ دو ہزار تک مل جاتا ہے۔‘

ان کے بقول منافغ بھی زیادہ ریپلیکا میں ہی ہے۔ کیونکہ صارفین کی ایک بڑی تعداد متوسط طبقے سے ہے۔

Image caption ڈیزائنر لان کی مقبولیت کے باعث متوسط طبقے کے لیے کم قیمت ریپلیکا بھی تیار کیے جا رہے ہیں

لان کے ہلکے پھلکے رنگوں کے کپڑے سامنے پھیلائے پسند نا پسند کی کشمکش میں الجھی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ پہلے وہ کاٹن زیادہ شوق سے پہنتی تھیں لیکن اب لان کے بغیر ان کا گزارا نہیں ہے۔ ’یہ بہت آرام دہ ہیں۔ ملازمت پیشہ خواتین کے لیے یہ بہت اچھا ہے۔ ان میں زیادہ گرمی نہیں لگتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گرمیوں کے مناسبت سے ہلکے پھلکے پیلے، نیلے اور ہرے رنگ کے کپڑے پسند کرتی ہیں۔

لیکن خُوب چھان کر گھنٹوں بازار میں وقت صرف کرنے کے بعد جو سوٹ پسند کریں اور جب کہیں پہن کر جانے پر سامنے بیٹھی خاتون نے بھی ویسا ہی سوٹ پہنا ہو تو کیسا لگتا ہے؟

ان کا کہنا تھا ’مجھے تو اچھا لگتا ہے کہ دوسرے بھی ویسے کپڑے پہنیں لیکن بہت سے لوگوں کو اچھا نہیں لگتا کیونکہ لوگوں کی انفرادیت باقی نہیں رہتی اور ان کی اکیلے تعریف سننے کی خواہش پر پانی پھر جاتا ہے۔‘

اسی بارے میں